اتر پردیش کے ضلع مہوبہ کے چرکھاری اسمبلی حلقہ (Charkhari Assembly constituency) سے بی جے پی کے رکن اسمبلی برج بھوشن راجپوت وجے دشمی کے موقع پر شستر پوجا کرنے کے بعد سرخیوں میں ہیں۔ انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ تقریب میں تقریباً 200 ہتھیاروں، جن میں پستول، ریوالور اور رائفلیں شامل تھیں، کے ساتھ 151 تلواروں کی پوجا کی۔ اس تقریب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور اس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، برج بھوشن راجپوت نے ہتھیاروں اور تلواروں پر تلک لگایا، رکشا سوتر باندھا اور ویدک منتروں کے جاپ کے ساتھ پوجا کی۔ اس دوران ان کے تقریباً 100 حامی بھی موجود تھے، جنہوں نے ’جے شری رام‘ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے لگائے۔ شستر پوجا کو چھتری برادری کی ایک روایتی رسم قرار دیا جاتا ہے، تاہم اتنی بڑی تعداد میں ہتھیاروں کی موجودگی نے بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
اگر یہی کام کسی مسلمان رہنما نے کیا ہوتا تو کیا ردعمل سامنے آتا؟
تصور کیجیے کہ کسی مسلم رکن اسمبلی کی رہائش گاہ پر تقریباً 200 ہتھیار اور 151 تلواریں رکھی ہوتیں، ان کی مذہبی رسم کے تحت پوجا یا کوئی تقریب منعقد کی جاتی اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی۔ کیا تب بھی اسے صرف مذہبی روایت کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا؟ کیا ٹی وی چینلوں پر اس تقریب کو اسی انداز میں پیش کیا جاتا؟ یا پھر اس واقعے کو قومی سلامتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قانون و انتظام کے ساتھ جوڑ کر ایک بڑی بحث چھیڑ دی جاتی؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جمہوری معاشرے میں قانون کا معیار مذہب یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی شخص کے پاس موجود ہتھیار قانونی ہیں اور وہ قانون کے دائرے میں رہ کر مذہبی رسم ادا کر رہا ہے تو اس کے ساتھ بھی قانون کے مطابق برتاؤ ہونا چاہیے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ اسی طرح اگر کسی معاملے میں قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کی جانچ بھی بلاامتیاز ہونی چاہیے۔
اصل سوال مذہب کا نہیں، بلکہ یکساں معیار اور دوہرے رویّوں کا ہے۔ کیا سیاسی رہنماؤں کے معاملات کو ان کی پارٹی اور مذہبی شناخت سے الگ کرکے دیکھا جاتا ہے؟ کیا میڈیا ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے معاملے میں یکساں سوالات اٹھاتا ہے؟ اور کیا عام شہریوں کے لیے بھی وہی اصول لاگو ہوتے ہیں جو بااثر سیاسی رہنماؤں کے لیے ہیں؟
برج بھوشن راجپوت نے اس تقریب کے دوران 2027 کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کو آگے بڑھانے کی بات بھی کہی۔ اب ان کی شستر پوجا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی منظر کسی مسلمان رہنما کی رہائش گاہ سے سامنے آتا تو کیا میڈیا، سیاست دانوں اور سوشل میڈیا کا ردعمل بھی یہی ہوتا؟ یہی وہ سوال ہے جس پر معاشرے کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔






