Wednesday, October 21, 2026 | 09 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • حوثی حملوں کے بعد بھارت میں تیل کے ذخائر کا جائزہ، کیا ملک کے پاس 90 دن کا تیل موجود ہے؟

حوثی حملوں کے بعد بھارت میں تیل کے ذخائر کا جائزہ، کیا ملک کے پاس 90 دن کا تیل موجود ہے؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 21 Oct 2026

حوثی حملوں کے بعد بھارت میں تیل کے ذخائر کا جائزہ، کیا ملک کے پاس 90 دن کا تیل موجود ہے؟
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات اور شبیبہ آئل فیلڈ پر حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر بھارت اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) یعنی ہنگامی حالات کے لیے محفوظ تیل کے ذخائر کا جائزہ لے رہا ہے۔ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرتا ہے، جس میں خلیجی ممالک کا اہم کردار ہے۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھارت کی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
 
حوثی حملوں کے جواب میں سعودی عرب کی ممکنہ جوابی کارروائی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے میں اضافے کا خدشہ بھی صورتحال کو حساس بنا رہا ہے۔ اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث بھارت کے لیے اپنے تیل کے ذخائر کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے۔
 
 
بھارت کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کا انتظام انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ (ISPRL) کرتی ہے۔ ان ذخائر میں خام تیل کو زمین کے اندر چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے خصوصی غاروں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد ہنگامی حالات میں تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا ہے۔
 
بھارت میں تیل ذخیرہ کرنے کی یہ سہولیات تین مقامات پر قائم ہیں:
 
وشاکھاپٹنم: 1.33 ملین ٹن
 
منگلورو: 1.5 ملین ٹن
 
پاڈور: 2.5 ملین ٹن
 
ان تینوں مراکز کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.33 ملین ٹن ہے۔ یہ تنصیبات 2015 سے 2018 کے درمیان فعال کی گئی تھیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ان میں موجود سرکاری ہنگامی ذخائر ملک کی تقریباً 9.5 دن کی تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
 
 
سرکاری ہنگامی ذخائر کے علاوہ بھارت کے پاس تجارتی بنیادوں پر تقریباً 64.5 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل موجود ہے۔ ان ذخائر کو انڈین آئل کارپوریشن (IOCL)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن (BPCL) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن (HPCL) جیسی تیل کمپنیاں اپنے روزمرہ کے کاروبار اور سپلائی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے رہنما اصولوں کے مطابق، رکن ممالک کو کم از کم 90 دن کی خالص تیل درآمدات کے برابر ہنگامی ذخائر برقرار رکھنے چاہئیں۔ تاہم، بھارت کے 9.5 دن کے سرکاری اسٹریٹجک ذخائر اس معیار کے مقابلے میں محدود ہیں۔ اگر خلیجی خطے میں تنازعہ طویل ہوجاتا ہے اور تیل کی درآمد متاثر ہوتی ہے تو تجارتی ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بھارت کے لیے اپنے ہنگامی ذخائر کی صلاحیت بڑھانے اور تیل کی فراہمی کو محفوظ بنانے کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
 
بھارت نے تیل کے ذخائر کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے ساتھ بھی معاہدہ کیا تھا۔ 2017 میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت کمپنی نے منگلورو میں زیرِ زمین چٹانی غاروں میں اپنے خرچ پر 5.86 ملین بیرل خام تیل ذخیرہ کیا۔ معاہدے کے مطابق، اس تیل کا کچھ حصہ تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ ایک بڑا حصہ ہنگامی حالات کے لیے محفوظ رکھا جانا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ اگر مغربی ایشیا میں ایسا تنازعہ پیدا ہو جس سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہو، تو بھارت کی حکومت کو اس ذخیرے پر خصوصی اور اولین حق حاصل ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یہ معاہدہ بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم، ملک کے تیل کے ذخائر کی اصل صورتِ حال جاننے کے لیے ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش کے ساتھ ساتھ اس وقت موجود خام تیل کی مقدار کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔