Monday, November 02, 2026 | 21 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • وزیراعلیٰ عمر کی شادی شریعت کے مطابق ناجائز ہے:مولاناشہاب الدین رضوی بریلوی

وزیراعلیٰ عمر کی شادی شریعت کے مطابق ناجائز ہے:مولاناشہاب الدین رضوی بریلوی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 02 Nov 2026

وزیراعلیٰ عمر کی شادی شریعت کے مطابق ناجائز ہے:مولاناشہاب الدین رضوی بریلوی
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کی ہے ۔ تاہم اس شادی کو لے کر مذہبی تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا کہ یہ شادی غیر   قانونی (غیراسلامی)ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہوئی۔ رضوی نے کہا کہ شریعت کے مطابق شادی کرنے والے دونوں افراد کو مسلمان ہونا چاہیے اور یہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ جبکہ عمر عبداللہ مسلمان ہے، رازدان غیر  مسلم ہیں ۔ اسی وجہ سے سی ایم عمر عبداللہ کی شادی اسلامی اصولوں کے مطابق جائز نہیں ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ اگر رازدان نکاح سے پہلے اسلام قبول کر لیتی   ہیں تو نکاح درست ہوتا۔ اگر وہ مذہب تبدیل کر کے اسلامی روایت کے مطابق شادی کر لیتں تو  نکاح جائز ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں شادی کے حوالے سے خاص اصول و ضوابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دولہا اور دلہن کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی غیر مسلم ہو تو نکاح صحیح نہیں ہے۔ اسی لیے وہ شادی پر اعتراض کر رہے ہیں، رضوی نے کہا۔ چونکہ رازدان نے اسلام قبول نہیں کیا ہے، اس لیے یہ شادی اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔
 
واضح رہے کہ عمر عبداللہ نے ہفتے  سوشل میڈیا کے ذریعہ اعلان  کیا ہے کہ انہوں نے صحافی ندھی رازدان کے ساتھ ایک نئی زندگی کا سفر شروع کیا ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ندھی کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ کل سے ایک نیا سفر شروع ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے 31 جولائی کو عمر عبداللہ کی پہلی  بیوی پائل کو طلاق دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ دونوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے باہمی رضامندی سے اپنی شادی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنے اختلافات دور کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کے خلاف دائر مقدمات واپس لینے پر بھی رضامند ہوگئے۔
 
انہوں نے مشترکہ طور پر آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت طلاق کا مطالبہ کیا تھا ۔ عمر عبداللہ اور پائل کی شادی 1994 میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے ظہیر اور ضمیر ہیں۔ پائل اور عمر 2009 سے الگ ، الگ رہ رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے اس کا اعلان 2011 میں کیا تھا ۔ حال ہی میں عمر عبداللہ نے  انکشاف  کیا ہے کہ انھوں  نے  ندھی رازدان سے شادی کی  ہے۔
 
سارہ علی خان کے خلاف بھی جاری کیا تھا فتویٰ
 مولانا نے حال ہی میں بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان کے اتراکھنڈ کے کیدارناتھ مندر   کے دورے  پر  ایک تبصرہ کر کے تنازع   کھڑا کیا تھا۔۔ بریلی میں مقیم عالم دین اور آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں ان کے مندر کے دورے، نماز اور رسومات کو اسلامی قانون (شریعت) کے تحت "جائز" (نازیاز) اور "حرام" قرار دیتے ہوئے مذمت کی گئی۔
 
 مولانا شہاب الدین رضوی نے اداکارہ پر زور دیا کہ وہ شرعی اصولوں کی خلاف ورزی کے لیے اللہ سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا، "مجھے معلومات ملی ہیں، اور بہت سے نوجوان مسلمانوں نے مجھ سے اداکارہ سارہ علی خان کے کیدارناتھ مندر میں جانے اور مذہی رسومات  ادا کرنے کے بارے میں بھی پوچھا ہے، کیا یہ شریعت کی روشنی میں جائز ہے، اور کیا شریعت اس طرح کے اقدامات کی اجازت دیتی ہے؟ اس کے بارے میں، میں اسلامی شریعت کا نقطہ نظر واضح کرنا چاہتا ہوں اور اس کا اس معاملے میں کیا حکم ہے۔"
 
 مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے مزید وضاحت کی، "کسی بھی مسلمان کے لیے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، کسی دوسرے مذہب کے عقیدے میں حصہ لینا، ان ہی کی طرح  عقیدے سے عبادت کرنا اور مذہبی رسومات ادا کرنا، شریعت کے تحت ناجائز  سمجھا جاتا ہے، اس طرح کے اعمال کی اجازت نہیں ہے۔اس لیے، اگر سارہ علی خان نے یہ حرکتیں کی ہیں- کیدارناتھ مندر جانا،  پوجا کرنا، اور اپنی مرضی سے آشیرواد حاصل کرنا۔تو انھوں نے گناہ کیا - ایک ایسا عمل جو حرام ہے۔"
 
اداکار سیف علی خان اور امرتا سنگھ کی بیٹی سارہ علی خان نے آنجہانی سوشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ 2018 کی فلم کیدارناتھ سے بالی ووڈ میں ڈیبیو کے بعد سے کیدارناتھ کے ساتھ ذاتی تعلق برقرار رکھا ہے ۔ پچھلے چار سالوں کے دوران، اس نے باقاعدگی سے ہمالیہ کے  مندر تک اپنی یاتریوں کی تصاویر شیئر کی ہیں، جس میں روحانی تسکین اور تعظیم کا اظہار کیا گیا ہے۔
 
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اداکارہ کو اپنے دوروں کے حوالے سے عوامی بحث کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2018 میں، دائیں بازو کے گروپوں نے اس کی پہلی فلم کیدارناتھ پر اس کی کہانی کی وجہ سے احتجاج کیا، جب کہ قدامت پسند اسلامی شخصیات نے سوشل میڈیا پر اس کے کثیر العقیدہ ذاتی طریقوں پر بار بار تنقید کی ہے۔