پاکستان میں حکام نے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ہنگامی حالت اتوار کو آئین کے دو آرٹیکلز کے تحت لگائی گئی تھی جو سکیورٹی سے متعلق ہیں۔ اس ایمر جنسی نے جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیر انتظام صوبائی حکومت کو مؤثر طریقے سے معطل کر دیا ہے۔اس سے پہلے وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کی منظوری دے دی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس اعلان کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے قانون ساز جنید اکبر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو صوبے میں پارٹی کے صدر کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے دی تھی اسلام آباد مارچ کی کال
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب سابق کرکٹر عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی دارالحکومت اسلام آباد پر مارچ کی تیاری کر رہی ہے، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے، جو تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں لیکن پھر بھی ملک بھر میں وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
مارچ کا آغاز پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا لیکن حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان مذاکرات کی اجازت دینے کے لیے اسے 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔تاہم حکومت نے کہا کہ وہ مارچ کو دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مظاہرین کی آمد کو روکنے کے لیے ہفتوں سے تیاری کر رہی ہے۔ اس نے دارالحکومت تک رسائی کے اہم راستوں کو روکنے کے لیے شپنگ کنٹینرز کا استعمال کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ۔
فیصلہ سےمزید خونریزی، عدم استحکام اور باہمی نقصان
پی ٹی آئی کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ صرف "مزید خونریزی، عدم استحکام اور باہمی نقصان" کا باعث بنے گا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی گنجائش موجود ہے لیکن تازہ ترین فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کبھی بھی مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
فیصلہ واپس لینے پی ٹی آئی کی مانگ
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جا سکتا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاق کا یہ اقدام ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیرجمہوری اقدام ہے، عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے اور صوبائی خود مختاری کمزور کر کے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
خیبر پختونخوا میں فوج کی تعینات
وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے فوج شہریوں کی جان کے تحفظ کے لیے تعینات کی جا رہی ہے، شہریوں کے جان ومال، سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی فوج کے ذمہ ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی 11 اکتوبر 2026 کو نافذ کی گئی ایمرجنسی کی مدت تک ہوگی۔ گورنرخیبرپختونخوا جی ایچ کیو سے مشاورت سے نفری کا تعین کریں گے۔ ملٹری آپریشنزڈائریکٹوریٹ کے ساتھ مل کردستوں کی تعداد طےکی جائےگی۔ پاک فوج کی تعیناتی سے متعلق حکم نامہ آئندہ گزٹ آف پاکستان پارٹ ٹو میں شائع کیا جائےگا۔
خیبرپختونخوا کیلئے11رکنی مشاورتی کونسل تشکیل
وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کیلئے 11رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی۔مشاورتی کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹرعامرعبداللہ اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگارجوہر، ثمربلور، ڈاکٹرسرفراز علی، عامرجاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد،کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کے حکم نامےکے مطابق ثنااللہ ایڈووکیٹ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیےگئے ہیں۔حکم نامےکے تحت وفاقی حکومت کا جاری کردہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔کونسل گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت کرےگی۔
ایمرجنسی کےلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری نہیں
آئین کے مطابق صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اگر صدر اپنی مرضی سے عمل کرے تو ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ دس دن کے اندر پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جانا لازمی ہے۔آئین کے مطابق ملک کے جس علاقے میں جب تک ایمرجنسی کا نفاذ رہے گا اس وقت تک مجلسِ شوریٰ یا پارلیمان کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ متاثرہ صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے ایسے معاملات پر قوانین بنا سکتی ہے، جو وفاقی قانون ساز فہرست یا متوازی قانون ساز فہرست میں درج نہ ہوں۔
کسی صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مدت کے دوران وفاق کا انتظامی اختیار ہدایات دینے تک ہو گا کہ مذکورہ صوبے کے انتظامی اختیار کو کس طرح استعمال کیا جائے۔آرٹیکل 232 کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں وفاقی حکومت صوبے کا انتظام خود سنبھال سکتی ہے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کے تمام یا چنندہ فرائض اور صوبے میں صوبائی اسمبلی کے علاوہ کسی بھی ادارے یا اختیار کو دیے گئے یا قابل استعمال اختیارات سنبھالے۔






