مرکز ی حکومت اس ماہ کے اواخر میں پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس بلانے پر غور کر رہی ہے،اس اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی یعنی حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیے جانے کے قوی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، لوک سبھا میں ان بلوں کی منظوری کے لیے درکار تعداد کے متعلق حکومت پُراعتماد ہے۔
باوثوق اطلاعات کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ اپوزیشن کی کچھ جماعتوں، خصوصاً ڈی ایم کے، اور چند چھوٹی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حمایت حاصل کی جائے، تاکہ دونوں آئینی ترامیم کو ایوانِ زیریں میں مطلوبہ اکثریت کے ساتھ پاس کرایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق رابطہ کاری کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے اور ووٹنگ سے پہلے عددی طاقت مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب اپوزیشن جماعتیں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور نگرانی کے معاملات پر سنجیدہ خدشات موجود ہیں، جنہیں دور کیے بغیر بڑے آئینی اقدامات میں تیزی مناسب نہیں۔ تاہم حکومت کا کے مطابق، نے کہا کہ انتخابی اصلاحات اور نمائندگی کے فروغ کے لیے ضروری قانون سازی میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی۔
قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست کو عملاً اختتام پذیر ہو چکا ہے، مگر اسے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔ اسی انتظامی صورتحال کے باعث خصوصی اجلاس بلانے کی آئینی گنجائش برقرار ہے، اور حکومت اجلاس کی تاریخوں اور ایجنڈا کو حتمی شکل دینے میں مصروف بتائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ محض چند ماہ قبل بجٹ اجلاس کے دوران 17 اپریل کو بھی خواتین کے لیے ریزرویشن اور حلقہ بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکے تھے۔ اُس رائے شماری میں 528 ارکان نے حصہ لیا تھا، جن میں سے 298 ووٹ حق میں اور 230 مخالفت میں پڑے۔ دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، یوں بل 54 ووٹوں سے ناکام قرار پایا۔ اسی پس منظر میں حکومت نے اس بار پیشگی مشاورت اور سیاسی ہم آہنگی کے ذریعے فضا ہموار کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔
باخبر حلقوں کے مطابق ڈی ایم کے سے رابطے تمل ناڈو انتخابات کے بعد اُبھرنے والی نئی سیاسی ترتیب کے تناظر میں تیز ہوئے ہیں، جب کہ بعض چھوٹی اپوزیشن جماعتوں سے بھی بات چیت جاری ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جب بل ایوان میں پیش ہوں تو مطلوبہ آئینی اکثریت یقینی بنائی جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا کے مطابق، نے کہا کہ اگر حکومت اپوزیشن کے ایک حصے کو ساتھ ملا لیتی ہے تو خواتین کی سیاسی نمائندگی میں اضافے اور انتخابی حلقہ بندی کے عمل میں پیش رفت ممکن ہو گی۔ البتہ اپوزیشن کے احتجاج اور الیکشن انتظامات پر اٹھنے والے سوالات اجلاس کے ماحول اور بل کی راہ میں اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
اب نگاہیں پارلیمانی کیلنڈر اور حکومت کی اتحادی جمع تفریق پر مرکوز ہیں۔ کیا خصوصی اجلاس میں یہ اہم آئینی ترامیم مطلوبہ حمایت حاصل کر پائیں گی یا ایک بار پھر سیاسی اعداد و شمار فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔






