دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کے لیے جاری کیے گئے نوٹس پر سیاسی ردعمل سامنے آنے لگا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسجد کی تاریخی اہمیت اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا معاملہ اٹھایا ہے۔ مسجد کو چھ دنوں کے اندر خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس کے بعد اس کے مستقبل اور آس پاس رہنے والے خاندانوں کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بیرونِ ملک، خصوصاً مسلم اکثریتی ممالک میں مساجد کی شان و شوکت کی تعریف کی جاتی ہے اور اسلامی ورثے کے احترام کی بات کی جاتی ہے، لیکن اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع تقریباً 120 سال پرانی تاریخی مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس سے اس کے وجود پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے اس صورتِ حال کو تضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مساجد کا احترام اور اپنے ملک میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو نظر انداز کرنا حیران کن ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی میونسپل کونسل (NDMC) نے ریس کورس مسجد کو چھ دنوں کے اندر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مسجد تقریباً 120 سال پرانی ہے اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ NDMC نے مسجد اور اس کے آس پاس کی متعدد عمارتوں کی پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی ہے۔ علاقے میں انہدام کی کارروائی بھی جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان اقدامات کے باعث مسجد کے ساتھ ساتھ قریبی عمارتوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، مسجد کو خالی کرنے کے نوٹس کی وجوہات، اس کی قانونی حیثیت اور کارروائی سے متعلق انتظامیہ کا تفصیلی مؤقف سامنے آنا اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اہم ہوگا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں علاقے میں رہنے والے تقریباً 700 خاندانوں کے متاثر ہونے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر عمارتوں کو خالی کرانے یا انہدام کی کارروائی آگے بڑھتی ہے تو ان خاندانوں کو رہائش سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح معاملہ صرف تاریخی مسجد کو خالی کرانے تک محدود نہیں رہا، بلکہ مقامی رہائشیوں کی رہائش اور بنیادی سہولتوں سے متعلق خدشات بھی اس سے جڑ گئے ہیں۔ محبوبہ مفتی کے بیان کے بعد یہ معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اب اس سلسلے میں انتظامیہ کے مؤقف، کارروائی کی وجوہات اور متاثرہ خاندانوں کے مستقبل پر توجہ مرکوز ہے۔







