Friday, September 18, 2026 | 04 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • نمونیا: عام کھانسی کب خطرناک بن سکتی ہے؟

نمونیا: عام کھانسی کب خطرناک بن سکتی ہے؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 17 Sept 2026

نمونیا: عام کھانسی کب خطرناک بن سکتی ہے؟
 کھانسی اوربخارکواکثرموسم کی تبدیلی یا عام وائرل انفیکشن سمجھ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات یہی علامات نمونیا جیسی سنگین بیماری کی طرف اشارہ کررہی ہوتی ہیں۔ بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں نمونیا پھیپھڑوں کو متاثر کرنے کے ساتھ سانس لینے میں شدید دشواری پیدا کرسکتا ہے۔ نمونیہ  کی علامات، خطرات اور بچاؤ کے طریقوں پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔

 ہر کھانسی نمونیہ نہیں ہوتی 

پروگرام میں Dr. Mohammed Mukkaram Ali، Senior Pulmonologist، CARE Hospitals, Hyderabad نے نمونیا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہر کھانسی نمونیہ نہیں ہوتی، لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

نمونیہ پھیپھڑوں کا انفیکشن

نمونیا پھیپھڑوں کے انفیکشن کو کہا جاتا ہے، جو مختلف جراثیم، وائرس یا بعض دیگر عوامل کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ اس دوران پھیپھڑوں کے چھوٹے ہوا کے تھیلوں میں سوزش اور بعض صورتوں میں سیال جمع ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔

نمونیہ کی علامات 

عام علامات میں بخار، کھانسی، بلغم، سینے میں درد، سانس پھولنا، سردی لگنا اور غیر معمولی کمزوری شامل ہوسکتی ہیں۔ کچھ افراد، خصوصاً عمر رسیدہ افراد، میں علامات روایتی انداز میں ظاہر نہیں ہوتیں اور صرف کمزوری، الجھن یا بھوک میں کمی جیسی شکایات سامنے آسکتی ہیں۔

کن لوگوں کیلئے سنگین خطرہ 

ماہر کے مطابق بچوں، بزرگوں، کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اور دل یا پھیپھڑوں کی پہلے سے بیماری میں مبتلا مریضوں میں نمونیا زیادہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اسی طرح ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو بھی بخار اور سانس کی علامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
اگر بخار مسلسل برقرار رہے، سانس لینے میں واضح دشواری ہو، سینے میں شدید درد ہو، ہونٹ یا چہرہ نیلا پڑنے لگے، مریض غیر معمولی طور پر غنودگی یا الجھن کا شکار ہو یا آکسیجن کی سطح کم ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایسے مریض کو گھر پر خود سے علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے معائنہ کرانا چاہیے۔

نمونیہ کی تشخیص 

نمونیہ کی تشخیص مریض کی علامات اور طبی معائنے کے علاوہ ضرورت کے مطابق سینے کے ایکسرے، خون کے ٹیسٹ یا دیگر تحقیقات سے کی جاسکتی ہے۔ علاج بیماری کی وجہ اور مریض کی حالت کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ ہر نمونیا کے لیے اینٹی بایوٹک ضروری نہیں ہوتی، کیونکہ وائرل انفیکشن میں اینٹی بایوٹکس مؤثر نہیں ہوتیں۔

بچاؤ کےلئے کیا کرنا چاہئے

بچاؤ کے لیے ہاتھوں کی صفائی، بیمار افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق متعلقہ ویکسینیشن اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ خاص طور پر زیادہ خطرے والے افراد کے لیے ویکسین کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مفید ہے۔
 
ماہر کا پیغام یہی ہے کہ معمولی کھانسی اور خطرناک انفیکشن کے درمیان فرق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ علامات مسلسل رہیں یا شدت اختیار کریں تو بروقت طبی مشورہ ہی پیچیدگیوں سے بچنے کا بہتر راستہ ہے۔
 
 قارئین آپ، ڈاکٹرمحمد مکرم علی، سینئر پلمونلوجسٹ،کیئرہاسپٹلزحیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی  دیکھ سکتےہیں۔