دہلی میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کے دوران سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رنکا کے ساتھ اجنکیہ شندے کو جمعہ، 23 اکتوبر کو اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوسری جانب، دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف مختلف تنظیموں کا احتجاج جاری ہے۔ پولیس نے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب جانے والے راستوں کو بند کر دیا ہے، جبکہ گول ڈاک خانہ چوک کے قریب مظاہرین نعرے بازی کر رہے ہیں۔ پولیس متعدد مظاہرین کو حراست میں لے کر بسوں کے ذریعے دوسری جگہ منتقل کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج سے متعلق معاملے کی تحقیقات دہلی پولیس کی کرائم برانچ کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کرائم برانچ نے سوربھ داس، آشوتوش رنکا اور اجنکیہ شندے کو جمعرات کو پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق، تینوں کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم اس سلسلے میں کرائم برانچ کی جانب سے باضابطہ نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع نہیں ہے۔ اس معاملے میں ابھیجیت دیپکے کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ CJP کے احتجاج نے سیاسی حلقوں میں تنازع پیدا کر دیا ہے۔ اب تینوں افراد کی اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیشی اور پولیس کی تحقیقات پر توجہ مرکوز ہے۔
اسی دوران، دہلی ہائی کورٹ میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی درخواست کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ عدالت نے جمعرات کو ان کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ نیہا بورا نے اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹس کو چیلنج کیا ہے۔ اس نوٹس میں انہیں 10 ہزار روپے کا بانڈ جمع کرانے اور امن برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ دہلی پولیس نے عدالت میں درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔ اب ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے، جس سے اس معاملے میں آئندہ قانونی کارروائی کی سمت واضح ہو سکتی ہے۔
دہلی میں ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ کے زیر اہتمام الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ گول ڈاک خانہ، یعنی جنرل پوسٹ آفس کے قریب مظاہرین کو حراست میں لے کر بسوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود احتجاج میں شامل افراد نعرے بازی کر رہے ہیں۔ مظاہرے میں مختلف سماجی اور سیاسی تنظیموں کے کارکن شریک ہیں۔ وہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاج کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI) کے رہنما پی سنتوش نے کہا کہ ان کی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہی پڑے گا۔ کوئی انہیں بچا نہیں سکتا۔‘‘ان کا یہ بیان ایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاج میں سیاسی مطالبات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ احتجاج میں شریک بائیں بازو کی رہنما برندا کرات نے بھی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، مودی جی، آپ کا بہت شکریہ؛ جنتر منتر کو بند کرکے آپ نے ہر گلی کو ہی جنتر منتر بنا دیا ہے۔







