Saturday, September 26, 2026 | 12 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کا مارچ، اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی

عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کا مارچ، اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 26 Sept 2026

عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کا مارچ، اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے مارچ کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ اہم شاہراہوں کو بند کیا گیا ہے، بڑی تعداد میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جیل میں کیے جانے والے سلوک پر انہیں شدید تشویش ہے اور ان کی رہائی کے مطالبے کے لیے یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق مارچ کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا اور عمران خان کے طبی علاج، جیل میں حالات اور مقدمات کی منصفانہ سماعت سے متعلق مطالبات منوانا ہے۔ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، تاہم بعد میں اس کی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کی گئی۔
 
میڈیا رپورٹ کے مطابق مارچ سے قبل حکومت نے پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے ساتھ عمران خان کی تین بہنوں کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ آفریدی نے الزام عائد کیا کہ حکومت پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کرکے مارچ کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی اور طبی سہولیات سے متعلق مطالبات تسلیم ہونے تک پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
 
حکام نے اسلام آباد جانے والے راستوں پر بڑے پیمانے پر رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ مختلف مقامات پر ایک ہزار سے زائد شپنگ کنٹینرز رکھے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض مقامات پر اضافی حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ پلوں پر ریت کی بوریاں رکھی گئی ہیں اور دارالحکومت میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں مجموعی طور پر تقریباً 22 ہزار پولیس اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ پشاور سے اسلام آباد جانے والی اہم شاہراہ کی بندش سے شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے سیکیورٹی صورتحال پر کہا ہے کہ ریاست کسی بھی ایسے گروپ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی جس سے تشدد کا خطرہ ہو۔
 
پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ عمران خان کو طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا، مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اور انہیں اہل خانہ اور وکلا سے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ عمران خان اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب، حکومتی اقدامات کے باعث اسلام آباد میں کاروباری سرگرمیوں اور سامان کی ترسیل کے نظام پر بھی اثر پڑنے کی شکایات سامنےآئی ہیں۔ ایک ریٹائرڈ کاروباری شخصیت نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی بندش سے عام شہری اور کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سخت رکاوٹوں کے باوجود اس کے کارکن مارچ میں شرکت کریں گے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔