کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے 28 اکتوبر کو ٹاٹا گروپ کے حوالے سے ایک سخت بیان دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے قدیم اور بڑے صنعتی ادارے ٹاٹا گروپ کو منصوبہ بندی کے تحت کمزور کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک کے بڑے کاروباری رہنما اس معاملے پر خاموش ہیں۔ راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز کی قیادت کو لے کر اختلافات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس معاملے میں ٹاٹا ٹرسٹس کے عہدیداروں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں اور تنازعہ ٹاٹا سنز کے بورڈ تک پہنچ گیا ہے۔
راہل گاندھی نے کاروباری رہنماؤں سے کیا سوال کیا؟
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹاٹا گروپ کو مجرمانہ طریقے سے کمزور کیا جا رہا ہے، لیکن بااثر کاروباری رہنما اس معاملے پر کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کاروباری برادری سے سوال کیا کہ وہ آخر کب تک خاموش رہے گی؟ راہل گاندھی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کیا کاروباری رہنما اس وقت تک خاموش رہیں گے، جب تک ان کے بقول، کوئی ان پر بھی قبضہ نہیں کر لیتا؟ اپنی پوسٹ میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستانی کاروبار مودی اور شاہ کا ذاتی کھلونا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کاروباری برادری آواز اٹھانے کی ہمت نہیں دکھاتی تو اپوزیشن یہ کام کرے گی اور مبینہ جرائم کے خلاف انصاف کی کوشش کرے گی۔
ٹاٹا سنز کی قیادت پر تنازعہ کیوں؟
راہل گاندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹاٹا سنز کی سربراہی کے معاملے پر اندرونی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نوئل ٹاٹا نے این چندر شیکھرن کو دوبارہ ٹاٹا سنز کا چیئرمین مقرر کرنے کی تجویز پر اعتراض کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تجویز 17 ستمبر کو ٹاٹا سنز کے بورڈ کی میٹنگ میں منظور کی گئی تھی۔ اسی سلسلے میں این چندر شیکھرن کی مدتِ کار میں مزید پانچ سال کی توسیع کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے۔ ٹاٹا سنز، ٹاٹا گروپ کی مرکزی ہولڈنگ کمپنی ہے، جو مختلف شعبوں میں کام کرنے والی متعدد کمپنیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے اس کی قیادت کے معاملے میں اختلافات کو کاروباری حلقوں میں اہمیت دی جا رہی ہے۔
حکومت اور ٹاٹا گروپ کا ردِعمل سامنے نہیں آیا
راہل گاندھی نے اپنے الزامات کو حکومتی اثراندازی اور کارپوریٹ نظام میں شفافیت کے سوالات سے جوڑا ہے۔ تاہم، ان کے بیان میں ان الزامات کے مخصوص محرکات کی تفصیلی وضاحت نہیں کی گئی۔ اب اس معاملے میں ٹاٹا ٹرسٹس کا مؤقف، ٹاٹا سنز کے بورڈ کے آئندہ فیصلے اور ممکنہ قانونی کارروائی اہم ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ قیادت سے متعلق اختلافات کس سمت جاتے ہیں اور اس معاملے پر متعلقہ فریق کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔






