سڑک حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا ان کی جان بچانے اور صحت یابی کے امکانات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حادثے کے بعد بعض اوقات معمولی چوٹیں بھی سنگین شکل اختیار کر سکتی ہیں، جبکہ سر، گردن، سینے اور ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی چوٹیں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ حادثے کے فوراً بعد کیا کرنا چاہیے، زخمی شخص کو کس طرح سنبھالنا چاہیے اور کن غلطیوں سے بچنا چاہیے۔
اسی اہم موضوع پر پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ (Health Aur Hum) میں ڈاکٹر سید معید الدین، کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن، بلس ہاسپٹل، مہدی پٹنم، حیدرآباد، سے گفتگو کی گئی۔ اس گفتگو میں سڑک حادثات میں لگنے والی چوٹوں، ہڈی ٹوٹنے یعنی فریکچر، ابتدائی طبی امداد، جدید علاج اور مکمل صحت یابی کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر پر بات کی گئی۔
حادثے کے بعد فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟
سڑک حادثے کے بعد اکثر لوگ زخمی کی مدد کے لیے فوراً آگے آتے ہیں، لیکن صحیح طریقہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات انجانے میں نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کی گردن یا ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی ہو تو اسے بلا ضرورت اٹھانا یا دوسری جگہ منتقل کرنا اس کی حالت کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
حادثے کی صورت میں سب سے پہلے جائے حادثہ کو محفوظ بنانا، ہنگامی طبی امداد طلب کرنا اور زخمی کی سانس اور ہوش کی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر شدید خون بہہ رہا ہو تو صاف کپڑے یا پٹی سے زخم پر مسلسل دباؤ ڈال کر خون روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اگر ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کا شبہ ہو تو زخمی کو غیر ضروری طور پر حرکت نہیں دینی چاہیے۔ جان بچانے کے لیے فوری اقدام ضروری ہو تو تربیت یافتہ امدادی کارکنوں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
فریکچر کیا ہے اور اس کی پہچان کیسے کی جائے؟
فریکچر کا مطلب ہڈی کا ٹوٹنا یا اس میں دراڑ پڑنا ہے۔ یہ چوٹ معمولی دراڑ سے لے کر ہڈی کے مکمل طور پر ٹوٹ جانے تک مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ حادثے کے بعد شدید درد، سوجن، متاثرہ حصے کو حرکت دینے میں دشواری یا جسم کے کسی حصے کی غیر معمولی شکل فریکچر کی علامات ہو سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں ہڈی ٹوٹنے کے باوجود ظاہری طور پر کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر فریکچر کی حتمی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر عموماً مریض کا معائنہ کرنے کے بعد ایکس رے کرواتے ہیں، جبکہ پیچیدہ فریکچر یا بعض مخصوص چوٹوں کی تفصیل جاننے کے لیے سی ٹی اسکین کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ فریکچر کا شبہ ہونے پر متاثرہ ہاتھ یا پاؤں کو مناسب سہارا دینا چاہیے۔ ہڈی کو خود سیدھا کرنے، متاثرہ حصے کی مالش کرنے یا زور لگا کر حرکت دینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے ہڈی کے آس پاس موجود پٹھوں، خون کی نالیوں اور اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کیا ہر فریکچر کے لیے سرجری ضروری ہوتی ہے؟
فریکچر کے علاج کا انحصار ہڈی کے ٹوٹنے کی نوعیت، چوٹ کی جگہ، ہڈی کے اپنی جگہ سے ہٹنے اور مریض کی مجموعی صحت پر ہوتا ہے۔ بعض فریکچر پلاسٹر، کاسٹ یا مناسب سہارے سے ٹھیک ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ صورتوں میں سرجری ضروری ہوتی ہے۔ شدید یا پیچیدہ فریکچر میں ہڈی کو درست حالت میں رکھنے کے لیے پلیٹیں، پیچ اور راڈز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا مقصد ہڈی کو استحکام فراہم کرنا اور اسے صحیح طریقے سے جڑنے میں مدد دینا ہوتا ہے۔ ان آلات کو بعد میں نکالنا ضروری ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ مریض کی حالت اور علاج کی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اگر فریکچر کے ساتھ زخم بھی ہو اور ہڈی باہر نظر آ رہی ہو تو اسے کھلا فریکچر کہا جاتا ہے۔ ایسی چوٹ میں انفیکشن اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے فوری طبی امداد ضروری ہے۔ زخم کو خود صاف کرنے، ہڈی کو اندر دھکیلنے یا کسی گھریلو طریقے سے علاج کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
فریکچر کے بعد صحت یابی میں کتنا وقت لگتا ہے؟
ہڈی جڑنے میں لگنے والا وقت ہر مریض کے لیے مختلف ہوتا ہے۔ اس کا انحصار مریض کی عمر، فریکچر کی نوعیت اور جگہ، مجموعی صحت اور علاج پر عمل کرنے جیسے عوامل پر ہوتا ہے۔ بعض فریکچر چند ہفتوں میں بہتر ہو جاتے ہیں، جبکہ شدید چوٹوں میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ فریکچر کے بعد فزیوتھراپی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مناسب وقت پر اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق فزیوتھراپی شروع کرنے سے متاثرہ عضو کی حرکت، طاقت اور روزمرہ کے کام کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ورزش یا وزن ڈالنے کا آغاز فریکچر کی نوعیت اور ہڈی کے جڑنے کی حالت کے مطابق ہونا چاہیے۔ غذائیت بھی صحت یابی کے عمل کا اہم حصہ ہے۔ کیلشیم، وٹامن ڈی اور پروٹین ہڈیوں کی صحت اور جسم کی مرمت کے لیے ضروری ہیں۔ ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور تمباکو کا استعمال بعض مریضوں میں ہڈی جڑنے کے عمل کو سست کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مریض ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرے، اپنی بیماریوں کو قابو میں رکھے اور علاج کے دوران مقررہ معائنے کرواتا رہے۔
کن علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟
حادثے کے بعد شدید یا بڑھتا ہوا درد، بہت زیادہ سوجن، ہاتھ یا پاؤں میں سن ہونا، انگلیوں کا ٹھنڈا پڑنا یا رنگ تبدیل ہونا خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح سر پر چوٹ لگنے کے بعد بے ہوشی، بار بار الٹی، الجھن یا سانس لینے میں دشواری کی صورت میں فوری ہنگامی طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔ درد کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہڈی مکمل طور پر جڑ چکی ہے۔ اسی لیے گاڑی چلانے، کام پر واپس جانے، چلنے پھرنے یا متاثرہ حصے پر وزن ڈالنے کا فیصلہ ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
حادثات سے بچاؤ اور بروقت علاج کی اہمیت
سڑک حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل کرنا، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال کرنا، تیز رفتاری سے گریز کرنا اور گاڑی چلاتے وقت موبائل فون استعمال نہ کرنا ضروری ہے۔ حادثہ پیش آنے کی صورت میں درست ابتدائی طبی امداد اور بروقت اسپتال پہنچانا زخمی کی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔






