دہلی کے قلبِ شہر کناٹ پلیس، پالیكا بازار اور منڈی ہاؤس میں جمعہ کے روز ترنگا لہراتا رہا ،جب کاکروچ جنتا پارٹی یعنی سی جے پی کے حامیوں اور مختلف طلبہ تنظیموں نے اچانک، مختصر مگر متواتر فلیش احتجاج کیے۔ یہ مظاہرے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ ہوئے، جب کہ جگہ جگہ بھاری پولیس تعیناتی دیکھی گئی۔
سینکڑوں مظاہرین نے قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز کے ساتھ کناٹ پلیس کے اِنر سرکل کے کئی چکر لگائے۔ ایک بڑی قومی پرچم بردار ٹیم نے مارچ کیا، کچھ نوجوان بیریکیڈز پر چڑھ گئے۔ فضا میں ’جئے ہند‘، ’انقلاب زندہ باد‘ اور ’گیانیش کمار، اب تمہاری باری ہے‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ مظاہرین پُرہجوم تجارتی مرکز کے مختلف گوشوں میں بکھرتے اور دوبارہ جمع ہوتے رہے جبکہ پولیس اہلکار رش کم کرنے اور سڑکوں کی روانی برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
یہ سب جمعہ کو نئی دہلی کے کنوٹ پلیس، پالیكا بازار اور منڈی ہاؤس کے اطراف پیش آیا۔ سنٹرل پارک کو جمعہ اور ہفتہ کے لیے عوام کے لیے بند رکھا گیا اور سیکورٹی مزید سخت کی گئی۔سی جے پی کے حامیوں کے ساتھ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے طلبہ بھی منڈی ہاؤس پر جمع ہوئے۔ بائیں بازو کے رہنما، جن میں ارکانِ پارلیمان جان بریٹاس اور سندوش کمار شامل ہیں، ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا کے ساتھ مارچ میں شریک ہوئے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈِپکے، جو مارچ کی قیادت کرنے والے تھے، جھنڈےوالاں سے نکلتے وقت حراست میں لے لیے گئے۔مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، ووٹر فہرستوں کی خصوصی توسیعی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کی واپسی، اور الیکشن کمشنر تقرری ایکٹ 2023 کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ پلے کارڈز پر لکھا تھا: ’ایس آئی آر بند کرو، ووٹ چوری بند کرو‘، ’ہُو ڈیلیٹڈ مائی ووٹ‘ اور ’پولیس تشدد حادثہ نہیں‘۔ بعض نے قومی ترانہ بھی پڑھا۔
الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی ہوئی اور ووٹر رولز میں مبینہ بے ضابطگیوں پر کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ اجتماعات سی جے پی کی ’لہرا دو ترنگا‘ اپیل کے جواب میں شام پانچ بجے سنٹرل پارک، کناٹ پلیس پر مجوزہ مارچ سے قبل فلیش مظاہروں کی صورت میں ہوئے۔تاہم دہلی پولیس نے مارچ کی اجازت نہیں دی، یہ کہتے ہوئے کہ بھارتیہ نگریك سرکشا سنہِتا، بی این ایس ایس، کی دفعہ 163 کے تحت کنوٹ پلیس اور ملحقہ علاقوں میں عوامی اجتماعات ممنوع ہیں۔
بھاری نفری اور رکاوٹوں کے باعث کنٹ پلیس اور پالیكا بازار کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، دکاندار برہمی کا اظہار کرتے رہے۔ پولیس نے اندرونی حلقے میں چکر لگا کر ہجوم منتشر کرایا اور ٹریفک جام کھولنے کی کوشش کی۔ موقع پر بعض جگہ معمولی تلخ کلامی اور دھکم پیل کی اطلاعات ملیں۔ چند آزاد یوٹیوب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
دہلی پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر CJP کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو حراست میں لے لیا ہے۔ اسی طرح دہلی پولیس نے AISA کی صدر نیہا بورا کو بھی حراست میں لے لیا ہے جو اس ریلی میں جا رہی تھیں۔ جب کہ دیپکے کو دہلی کے جھنڈے والان میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ نیہا بورا کو منڈی ہاؤس سے گرفتار کیا گیا۔دونوں کو حراست میں لینے کے دوران کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس جگہ دیپکے کے حامیوں کے ساتھ پولیس اور میڈیا کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے دیپکے کو گرفتار کیا اور اسے اپنی گاڑی میں لے گئے۔ اس سے پہلے دہلی پولیس نے دیپکے کو دو الگ الگ نوٹس جاری کیے تھے۔ پولیس نے دہلی پولیس ایکٹ کے تحت ایک نوٹس جاری کیا تھا، جس میں اسے سینٹرل پارک میں احتجاج میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بعد میں، جنوب مغربی دہلی پولیس نے بی این ایس کی دفعہ 163 کے تحت ایک اور نوٹس جاری کیا۔
اس وقت دیپکے کی رہائش گاہ پر بڑی پولیس فورس تعینات تھی۔ گرفتاری کے دوران دیکے کی پولیس سے جھڑپ ہوئی۔ اس نے پولیس سے کہا کہ اسے کوئی اور جگہ دکھائیں، یہ کہتے ہوئے کہ اسے سینٹرل پارک میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس نے کہا کہ وہ اسے دوسری جگہ کے بارے میں بعد میں بتائیں گے اور وہ اسے ابھی اپنی تحویل میں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہے اور پوچھا کہ انہیں کیوں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پولیس نے کناٹ پلیس اور سینٹرل پارک کو بند کردیا، جہاں آج احتجاج ہونا تھا۔ پارک میں پابندیاں لگا دی گئیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
اس سے وسطی دہلی کے علاقے میں تناؤ کا ماحول بن گیا ہے۔ CJP CEC گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہا ہے۔ اس تناظر میں، دو دن قبل دہلی پولیس نے سی جے پی کے سرکردہ لیڈروں آشوتوش رانکا اور سورو داس کو قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا اور انہیں عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے انہیں پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ دونوں اس وقت تہاڑ جیل میں ہیں۔






