یمن میں سعودی زیرقیادت اتحاد نے اتوار کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک مسافر ٹرمینل کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے حملے کا سختی سے جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور کئی افرادزخمی ہوئے۔
حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کےخلاف اور جنگی جرم
اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ حوثی گروپ کی جانب سے ہفتے کے روز کیا جانے والا حملہ بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے روایتی قوانین کے تحت ایک جنگی جرم ہے۔المالکی نے اس حملے کو ایک گھناؤنا فعل قرار دیا جو انسانی اصولوں، اقدار اور اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اسے "دہشت گردانہ حملہ" کے طور پر بیان کرنے کا سختی سے جواب دے گی۔
حملہ میں 12 افراد ہلاک 309 زخمی
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا کہ ہفتے کی دوپہر کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 دیگر زخمی ہوئے ہیں، کیونکہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب نے بڑے ہوائی اڈوں پر حملوں کا تبادلہ جاری رکھا ہوا ہے۔سعودی ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق مہلوکین میں چار سعودی شہری اور آٹھ غیر ملکی باشندے شامل ہیں - دو بنگلہ دیشی اور ایک ایک امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے ہیں۔حکام نے بتایا کہ زخمی کئی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔
ایئرپورٹ عارضی طور پر معطل
اتھارٹی نے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہوائی اڈے پر کاروائیوں کو نقصان کے جائزے اور حفاظتی جانچ پڑتال کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ہندوستان نے بھی کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ اپنی خودمختاری کے دفاع میں یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ رواں ہفتے ریاض کے ہوائی اڈے پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ اس حملے نے عارضی طور پر ہوائی اڈے کی کارروائیوں کو معطل کر دیا اور ہفتے کے روز پروازوں کا رخ موڑ دیا۔
حملے نا قابل قبول: بھارت
نئی دہلی نے کہا کہ شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے "ناقابل قبول" ہیں اور انہوں نے فوری طور پر دشمنی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ایک بیان میں، وزارت خارجہ (MEA) نے کہا، "ہم ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گزشتہ چند دنوں کے دوران بار بار ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں 10 اکتوبر کو ہوئےبزدلانہ حملہ بھی شامل ہے، جس میں جانوں کے ضیاع، زخمیوں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔"
سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع میں انڈیا سعودی قوم اور حکومت کےساتھ
بیان میں کہا گیا کہ "شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر بار بار حملے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔"اس نے مزید کہا کہ "ہم سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع میں عوام اور مملکت کی حکومت کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ جلد از جلد خطے میں امن اور معمولات واپس آجائیں"۔
شہریوں پر حملے فوری بند کرنے کی مانگ
بھارت نے اس حملہ کو گزشتہ ایک دہائی میں سعودی سرزمین پر ہونے والا سب سے گھناؤنا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ میزائل حملہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینلز 3 اور 4 کے علاقے میں ہوا جو اندرون ملک پروازوں کے لیے مخصوص ہے۔ ایک بیان میں، وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ 10 اکتوبر کو پیش آئےاس گھناؤنے واقعے کے علاوہ گزشتہ چند دنوں میں ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ 'شہریوں پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں'۔
خطہ میں جلد امن کی امید
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اپنی خودمختاری کے تحفظ میں سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ جلد از جلد خطے میں امن اور معمول کے قیام کی امید کرتا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر حملے کے پیچھے الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:👇ریاض ایئرپورٹ پر حملہ، 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی







