Tuesday, October 13, 2026 | 01 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • چیف الیکشن کمشنر اور دیگرالیکشن کمشنروں کو مکمل قانونی استثنیٰ دینےکا معاملہ۔ سپریم کورٹ کا مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس

چیف الیکشن کمشنر اور دیگرالیکشن کمشنروں کو مکمل قانونی استثنیٰ دینےکا معاملہ۔ سپریم کورٹ کا مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 13 Oct 2026

چیف الیکشن کمشنر اور دیگرالیکشن کمشنروں کو مکمل قانونی استثنیٰ دینےکا معاملہ۔ سپریم کورٹ کا مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس
 سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر (CEC) اور دیگر الیکشن کمشنروں کو مکمل قانونی استثنیٰ فراہم کرنے والی قانونی شق کو چیلنج کرنے والی مفادِ عامہ کی عرضی پر منگل کے روز مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ نوٹس ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) کی جانب سے دائر عرضی پر جاری کیا۔ عرضی میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں (تقرری، خدمات کی شرائط اور مدتِ کار) ایکٹ، 2023 کی دفعہ 16 کو چیلنج کیا گیا ہے۔
  
نومبر2 کو اگلی سماعت
اس دفعہ کے تحت موجودہ اور سابق چیف الیکشن کمشنروں اور دیگر الیکشن کمشنروں کو اپنے سرکاری فرائض انجام دینے یا انجام دینے کی کوشش کے دوران کیے گئے کسی عمل، اقدام یا بیان کے سلسلے میں قانونی کاروائی سے تحفظ حاصل ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، اس معاملے کی اگلی سماعت عارضی طور پر 2 نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔
 
دفعہ 16میں کیا کہا گیا ہے؟
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کے ایکٹ کی دفعہ 16 کے مطابق، کسی بھی نافذ قانون میں موجود کسی بھی بات کے باوجود، کوئی عدالت ایسے شخص کے خلاف دیوانی یا فوجداری کاروائی شروع نہیں کر سکتی یا جاری نہیں رکھ سکتی جو چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر ہو یا رہ چکا ہو، بشرطیکہ متعلقہ عمل، اقدام یا بیان اس نے اپنے سرکاری فرائض یا اختیارات کی انجام دہی کے دوران کیا ہو یا ایسا کرنے کی کوشش کی ہو۔
 
اے ڈی آر نے استثنیٰ کو آئین کے خلاف قرار دیا
ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے اپنی عرضی میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ قانونی شق آئین کے آرٹیکل 14 اور 19 کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ آئینی عہدوں پر فائز عہدیداروں کو اس نوعیت کا وسیع قانونی تحفظ فراہم کرنے سے جواب دہی کا نظام کمزور ہوتا ہے اور انہیں قانون کے عام طریقۂ کار سے بالاتر رکھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
 
اختیارات کا من مانی استعمال اور بد عنوانی کے الزامات
عرضی میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کو مکمل استثنیٰ دینے سے اختیارات کے مبینہ من مانے استعمال اور بدعنوانی کے الزامات عدالتی جانچ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔یہ عرضی الیکشن کمیشن کے اختیارات، اس کے کام کاج اور فیصلے کرنے کے عمل کی آزادی سے متعلق قانونی ڈھانچے پر جاری عدالتی جانچ کے درمیان سامنے آئی ہے۔
 
چیف الیکشن کمشنر کے انفرادی اختیارات پر بھی سوال
5 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے ایک الگ عرضی پر بھی مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن اور تینوں الیکشن کمشنروں کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اس عرضی میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کثیر رکنی آئینی ادارے میں تفویض کردہ اختیارات کو انفرادی طور پر استعمال کر سکتے ہیں یا اس کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
 
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس باگچی اور جسٹس موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ نوٹس اس وقت جاری کیا تھا جب درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کا کام کاج اس پر لاگو قانونی ڈھانچے کے مطابق نہیں ہے۔ درخواست گزار کا استدلال تھا کہ آئین کا آرٹیکل 324 انتخابات کی نگرانی، ہدایت اور کنٹرول کے اختیارات الیکشن کمیشن کو بحیثیت ادارہ دیتا ہے، نہ کہ صرف چیف الیکشن کمشنر کو انفرادی حیثیت میں۔
 
چیف جسٹس کو تقرری کمیٹی سے خارج کرنے کا معاملہ بھی زیرِ غور
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے قائم سلیکشن کمیٹی سے چیف جسٹس آف انڈیا کو خارج کرنے والے 2023 کے قانون کی آئینی حیثیت بھی سپریم کورٹ میں زیرِ غور ہے۔23 ستمبر کو سپریم کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بنچ نے اس قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو آئینی بنچ کے سپرد کرنے کے معاملے پر منقسم فیصلہ سنایا تھا۔
 
جسٹس دیپانکر دتہ نے معاملے کو بڑی بنچ کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ جسٹس ستیش چندر شرما نے کہا کہ اس معاملے میں آئین کی تشریح سے متعلق اہم سوالات شامل ہیں اور اسے آئینی بنچ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔دونوں ججوں نے ہدایت دی کہ معاملے کی فائل چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے رکھی جائے تاکہ وہ آئینی بنچ تشکیل دینے کے امکان پر غور کر سکیں۔
 
2023 کے قانون کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے سلیکشن کمیٹی میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیر اعظم کی جانب سے نامزد مرکزی کابینہ کے ایک وزیر کو شامل کیا گیا ہے۔اس قانون کے ذریعے سپریم کورٹ کے مارچ 2023 کے فیصلے، انوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا، میں طے کیے گئے عبوری انتظام کو تبدیل کیا گیا تھا۔ اس انتظام کے تحت تقرری کمیٹی میں وزیر اعظم اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کے ساتھ چیف جسٹس آف انڈیا بھی شامل تھے۔