دہلی کے کناٹ پلیس (CP) میں کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ احتجاج کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ احتجاج سے علاقے کے چھوٹے دکانداروں اور کاروبار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے اس معاملے میں فوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کاروبار سے بہت سے خاندانوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے اور امید ہے کہ لوگ سمجھداری سے کام لیں گے۔ سپریم کورٹ کے مطابق، اس معاملے کی سماعت 26 یا 27 اکتوبر کو کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر مناسب احکامات جاری کیے جائیں گے۔
CJP نے کیا اعلان کیا؟
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جمعہ کی شام 5 بجے کناٹ پلیس میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آشوتوش رنکا اور سوربھ داس کی حمایت میں آگے آئیں۔ CJP نے دونوں کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف ’ترنگا مارچ‘ کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف آواز اٹھانے والے کارکنوں کی حمایت میں کیا جا رہا ہے۔
آشوتوش رنکا اور سوربھ داس کیوں گرفتار ہوئے؟
13 اکتوبر کو آشوتوش رنکا اور سوربھ داس گیٹ پھلانگ کر دہلی کے جنتر منتر میں داخل ہو گئے تھے۔ اس دوران ان کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھا اور وہ نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا اور اگلے روز گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں مجسٹریٹ نے انہیں پانچ روزہ عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا۔
دکانداروں کے کاروبار کا معاملہ
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ کناٹ پلیس جیسے اہم تجارتی علاقے میں احتجاج کے باعث چھوٹے دکانداروں اور دیگر کاروباری افراد کو نقصان ہو سکتا ہے۔ عدالت نے کاروبار اور روزگار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فوری مداخلت سے گریز کیا، تاہم آئندہ سماعت کے لیے 26 یا 27 اکتوبر کی تاریخ بتائی۔ عدالت ضرورت کے مطابق اس معاملے میں مزید احکامات جاری کر سکتی ہے۔ فی الحال CJP کے احتجاج اور اسے روکنے سے متعلق درخواست پر حتمی عدالتی فیصلہ آنا باقی ہے۔






