معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کے خلاف دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بھارتی فوج اور پولیس کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی۔ یہ شکایت دہلی کے وکیل وویک گرگ نے پولیس کمشنر، شمالی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (DCP) اور روپ نگر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) کو دی ہے۔ شکایت کنندہ نے سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ دھرو راٹھی کے بیانات ملک اور مرکزی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش یا سازش کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم، یہ الزامات ہیں اور ان کی سچائی کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔
وکیل وویک گرگ نے اپنی شکایت میں دھرو راٹھی کے مالی ذرائع اور ان کے مبینہ روابط کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یوٹیوبر کا پاسپورٹ ضبط کرنے اور بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے مکمل تحقیقات کرانے کی درخواست بھی کی ہے۔ دھرو راٹھی کے خلاف اس سے قبل بھی دہلی کی ساکیت عدالت میں ایک فوجداری ہتکِ عزت کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ یہ مقدمہ وکاس سنکرتیائن، جنہیں وکاس پانڈے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے دائر کیا تھا۔ شکایت کنندہ کے مطابق، یہ مقدمہ دھرو راٹھی کی ایک ویڈیو سے متعلق ہے، جس کا عنوان ’BJP IT Cell Part-2‘ تھا۔
اطلاعات کے مطابق، 12 اکتوبر کو جاری کیے گئے حکم میں ساکیت عدالت نے دھرو راٹھی کے خلاف نئے سمن جاری کرنے اور انہیں گڑگاؤں میں ان کی رہائش گاہ پر ذاتی طور پر پہنچانے کی اجازت دی۔ عدالت نے شکایت کنندہ کو یہ اجازت بھی دی کہ وہ سمن پہنچانے والے اہلکار کے ساتھ جا سکتے ہیں، تاکہ عدالتی نوٹس کی باقاعدہ تعمیل یقینی بنائی جا سکے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت 17 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔ یوں دھرو راٹھی کے خلاف ایک طرف پولیس میں نئی شکایت سامنے آئی ہے، تو دوسری جانب ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ دونوں معاملات میں آئندہ قانونی کارروائی اہم ہوگی۔






