دہلی کے کناٹ پلیس میں کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ مظاہرے سے پہلے پولیس ابھیجیت ڈِپکے کی رہائش گاہ پہنچی اور انہیں نوٹس جاری کیا۔ پولیس نے انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ بغیر اجازت ترنگا یاترا نہ نکالیں۔ حکام کے مطابق، دہلی پولیس نے یہ نوٹس امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 15 سے 20 پولیس اہلکار موقع پر پہنچے تھے۔
دہلی پولیس نے ابھیجیت ڈِپکے کو پولیس ایکٹ 1978 کی دفعہ 29 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ پولیس نے واضح کیا کہ ترنگا یاترا نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے نفاذ کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے تحت متعلقہ علاقے میں اجتماعات اور سرگرمیوں پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی میونسپل کونسل (NDMC) نے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک کو آج اور کل کے لیے بند کر دیا ہے۔
ابھیجیت ڈِپکے ان دنوں دہلی کے جھانڈے والاں علاقے میں NCP-SP کے ترجمان انیش گوانڈے کی رہائش گاہ پر قیام پذیر ہیں۔ پولیس کی ٹیم وہیں پہنچی تھی اور انہیں نوٹس دینے کے بعد واپس چلی گئی۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اجازت کے بغیر مارچ یا ترنگا یاترا نکالنا نافذ احکامات کی خلاف ورزی ہوگی۔ ایسی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس کارروائی سے پہلے ابھیجیت ڈِپکے نے سوشل میڈیا پر مہاتما گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کو گاندھی جیسے رہنما ملے ہیں اور ملک کے نوجوان ہمیشہ ان کے دکھائے ہوئے راستے پر چلیں گے۔ ان کے مطابق، یہ راستہ امن اور عدم تشدد کا راستہ ہے۔ فی الحال دہلی پولیس نے مجوزہ ترنگا یاترا کی اجازت نہ ملنے اور دفعہ 163 کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے مارچ نہ نکالنے کی ہدایت دی ہے۔






