سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا
معاملے کی اگلی سماعت 30 نومبر کو ہوگی
سپریم کورٹ نے قومی ترانے نہیں بلکہ قومی گیت ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بند گانے کو لازمی قرار دینے سے متعلق احکامات کو چیلنج کرنے والی نئی درخواستوں پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بینچ نے بھیم راؤ دریودھن بورکر اور سابق آئی اے ایس افسر بالاکرشنن کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے ان درخواستوں کو اسی نوعیت کے پہلے سے زیرِ سماعت دیگر مقدمات کے ساتھ منسلک کردیا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 30 نومبر کو مقرر کی گئی ہے۔
درخواست گزار بھیم راؤ دریودھن بورکر نے اپنی درخواست میں وزارتِ داخلہ کے 28 جنوری اور 9 جولائی 2026 کے احکامات کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان احکامات کے ذریعے کئی دہائیوں سے چلی آرہی روایت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ درخواست کے مطابق، گزشتہ تقریباً 79 برسوں سے وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کی روایت رہی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان بندوں میں کسی مخصوص مذہبی عقیدے سے متعلق ایسا مواد شامل نہیں تھا جس پر اعتراض کیا جائے۔ تاہم، نئے احکامات کے تحت مکمل نظم کے تمام چھ بند گانے کو لازمی قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ بورکر نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ مکمل نظم کے بعض حصوں میں ایسے الفاظ اور خیالات موجود ہیں جنہیں مسلمان اپنے مذہبی عقائد کے خلاف اور توہین آمیز سمجھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ایک پرانی روایت کو غیر قانونی طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے فی الحال درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے، بلکہ مرکزی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے ان کا جواب طلب کیا ہے۔ ان درخواستوں کو اسی معاملے سے متعلق دیگر مقدمات کے ساتھ منسلک کرنے کے بعد اب عدالت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ 30 نومبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں اس معاملے پر مزید کارروائی متوقع ہے۔ عدالت کا حتمی فیصلہ اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوگا کہ وندے ماترم کے تمام چھ بند گانے کو لازمی قرار دینے والے احکامات قانونی طور پر درست ہیں یا نہیں۔ واضح رہے کہ اس مرحلے پر درخواست گزاروں کے اعتراضات ان کے مؤقف کا حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے ابھی ان دعوؤں پر کوئی حتمی رائے ظاہر نہیں کی ہے۔







