ساحلی علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں سے درخت اکھڑ گئے
ہماچل پردیش میں بھی بارش اور گرج چمک کا الرٹ جاری
سمندری طوفان ارنب کے اثرات سے آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں حالات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ طوفان کے باعث سڑکوں اور ریلوے ٹریک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے آمدورفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق خراب موسم کے پیش نظر شمش آباد ہوائی اڈے سے وجئے واڑہ، راجمندری اور وشاکھاپٹنم جانے والی کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی وسطی ریلوے کے تحت چلنے والی متعدد ٹرینوں کی آمدورفت میں بھی خلل پڑا ہے۔ مسافروں کو پیش آنے والی پریشانیوں کے پیش نظر حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو چوکس رہنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے والے شدید سمندری طوفان ارنب کے اثرات پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے میدانی علاقوں میں 29 اکتوبر سے 31 اکتوبر کے درمیان ہلکی سے درمیانی بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران گرج چمک کے خدشے کے پیش نظر یلو الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ موسم میں اس تبدیلی کے باعث ریاست کے دن کے اوسط درجہ حرارت میں کمی آنے کی توقع ہے۔ گزشتہ روز سے شروع ہونے والی تین روزہ موسمی تبدیلی کے دوران لوگوں کو موسم کے بدلتے حالات کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
موسمی اندازوں کے مطابق ہماچل پردیش میں بارش کا یہ سلسلہ ختم ہونے کے بعد یکم نومبر سے درجہ حرارت میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، مہینے کے آخر تک ریاست میں موسم سرما کی شروعات کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ فی الحال آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں میں طوفان کے اثرات اور ہماچل پردیش میں ممکنہ بارش کے پیش نظر موسم پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم سے متعلق تازہ ہدایات پر توجہ دیں اور اپنی حفاظت کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔






