Thursday, October 29, 2026 | 17 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ناگپور گریجویٹس حلقے میں کانگریس کی جیت، ابھیجیت ونجاری نے بی جے پی کو 3,271 ووٹوں سے ہرایا

ناگپور گریجویٹس حلقے میں کانگریس کی جیت، ابھیجیت ونجاری نے بی جے پی کو 3,271 ووٹوں سے ہرایا

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 29 Oct 2026

ناگپور گریجویٹس حلقے میں کانگریس کی جیت، ابھیجیت ونجاری نے بی جے پی کو 3,271 ووٹوں سے ہرایا
آر ایس ایس کے گڑھ ناگپور میں بی جے پی کو شکست
 کانگریس کارکنوں نے کامیابی کا جشن منایا
 
مہاراشٹر کے ناگپور گریجویٹس حلقے سے کانگریس امیدوار ابھیجیت ونجاری نے ایم ایل سی کا انتخاب جیت لیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی امیدوار سدھاکر کو 3,271 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد کانگریس کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پارٹی کے حامیوں نے جشن منانا شروع کر دیا۔اس انتخاب میں ابھیجیت ونجاری کو مجموعی طور پر 67 ہزار 231 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی امیدوار سدھاکر کو 63 ہزار 960 ووٹ ملے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا، لیکن آخرکار کانگریس امیدوار نے برتری حاصل کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔
 
نتائج کے باضابطہ اعلان کے بعد ریٹرننگ آفیسر اور ڈویژنل کمشنر وجے لکشمی بیداری نے ابھیجیت ونجاری کو ان کے انتخاب کا سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی کامیابی کی باضابطہ تصدیق ہوگئی۔ کامیابی کی خبر سامنے آتے ہی کانگریس کارکنوں اور حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ پارٹی کے حلقوں میں جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ اس انتخابی نتیجے کو کانگریس کے لیے اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ناگپور میں بی جے پی کو شکست دینا سیاسی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
 
ناگپور کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کا مرکزی دفتر بھی ناگپور میں واقع ہے، جس کی وجہ سے یہ شہر مہاراشٹر کی سیاست میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ ایسے میں ناگپور گریجویٹس حلقے سے کانگریس امیدوار کی جیت نے سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ بی جے پی کو اس حلقے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ اس نتیجے کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں اس کے ممکنہ اثرات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
 
ابھیجیت ونجاری کی جیت کو کانگریس کے لیے ایک اہم انتخابی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حلقے میں کانگریس امیدوار نے بی جے پی امیدوار کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ تاہم، اس ایک انتخابی نتیجے کی بنیاد پر پورے مہاراشٹر کی سیاسی صورتحال کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ناگپور گریجویٹس حلقے میں کانگریس کی اس کامیابی کو پارٹی آئندہ سیاسی سرگرمیوں میں کس طرح پیش کرتی ہے اور بی جے پی اس نتیجے پر کیا ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔ فی الحال، ابھیجیت ونجاری کی کامیابی اور ناگپور میں بی جے پی کی شکست سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔