Wednesday, October 07, 2026 | 23 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مغربی بنگال ایس آئی آر کیس، ٹربیونل ججوں نے الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل نظام پر اٹھائے سوالات

مغربی بنگال ایس آئی آر کیس، ٹربیونل ججوں نے الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل نظام پر اٹھائے سوالات

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 06 Oct 2026

مغربی بنگال ایس آئی آر کیس، ٹربیونل ججوں نے الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل نظام پر اٹھائے سوالات
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی یعنی SIR کا معاملہ مسلسل تنازع کا شکار ہے۔ اب اس عمل سے متعلق مسائل الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل نظام تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد SIR سے متعلق معاملات کی سماعت کے لیے ٹربیونلز تشکیل دیے گئے تھے، لیکن ٹربیونل ججوں نے الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل پورٹل میں کئی اہم خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق، 11 اگست کو ٹربیونل ججوں کے اجلاس میں پورٹل کے کام کرنے کے طریقہ کار پر تفصیل سے بات ہوئی۔ ججوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں نوٹس جاری کرنے، اضافی دستاویزات محفوظ رکھنے، آن لائن سماعت کرنے اور ٹربیونل کے فیصلے کے بعد ووٹر کا نام دوبارہ فہرست میں شامل کرنے جیسے اہم کاموں کے لیے مناسب سہولیات موجود نہیں ہیں۔
 
ٹربیونل ججوں کی ایک بڑی تشویش نوٹس جاری کرنے کے عمل کو لے کر سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق پورٹل پر ایسا کوئی واضح اور معیاری نظام موجود نہیں تھا جس کے ذریعے ٹربیونل متعلقہ افراد کو براہ راست نوٹس بھیج سکیں۔ اگرچہ مئی 2026 میں نوٹس کے ایک فارمیٹ کو منظوری دی گئی تھی، لیکن اسے پورٹل پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔ اس کے نتیجے میں کئی ٹربیونلز کو ضلعی حکام کے ذریعے ای میل سے نوٹس بھیجنے کا طریقہ اختیار کرنا پڑا۔
 
ججوں نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ اگر کسی ووٹر سے مزید دستاویزات طلب کی جائیں یا پہلے اپ لوڈ کی گئی دستاویزات ناکافی قرار دی جائیں تو انہیں محفوظ رکھنے کے لیے پورٹل پر مناسب سہولت موجود نہیں ہے۔ SIR سے متعلق اپیلوں میں دستاویزات اور ریکارڈ انتہائی اہم ہیں، اس لیے ججوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈیجیٹل نظام کی خامیاں اپیلوں کی سماعت اور فیصلوں کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔
 
ٹربیونل ججوں کے مطابق پورٹل پر آن لائن یا ورچوئل سماعت کے لیے بھی مناسب سہولت موجود نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اگر ٹربیونل کسی ووٹر کے حق میں فیصلہ دے اور اس کا نام ووٹر لسٹ میں دوبارہ شامل کرنے کا حکم دے تو پورٹل پر اس فیصلے کو نافذ کرنے کا بھی واضح طریقہ موجود نہیں تھا۔ اپیل کنندہ کو ٹربیونل کے فیصلے کی کاپی حاصل کرنے یا اسے پورٹل سے ڈاؤن لوڈ کرنے کے طریقہ کار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے۔
 
ججوں نے ان اپیلوں کے ریکارڈ پر بھی تشویش ظاہر کی جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا ڈسٹرکٹ الیکشن افسر کے دفاتر میں کاغذی شکل میں جمع کرائی گئی ہیں۔ اگر ایسی درخواستوں کا ڈیٹا بروقت اور درست طریقے سے ڈیجیٹل نظام میں درج نہ کیا جائے تو اپیل کنندگان کے معاملات کی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی آن لائن کے ساتھ آف لائن اپیلیں جمع کرانے کی سہولت پر زور دیا تھا۔ آف لائن موصول ہونے والی اپیلوں کو ڈیجیٹل نظام میں درج کرنے کی ذمہ داری متعلقہ حکام کو دی گئی تھی۔
 
مغربی بنگال میں SIR کے دوران 27 لاکھ 16 ہزار سے زیادہ ووٹرز کے نام فہرست سے خارج کیے گئے۔ ان میں سے تقریباً 22 لاکھ 21 ہزار افراد نے اپنے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے اپیل دائر کی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 38 لاکھ 31 ہزار اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ ان میں 22 لاکھ 21 ہزار اپیلیں خارج کیے گئے ناموں کی بحالی کے لیے ہیں، جبکہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار اپیلیں ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے ناموں کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ اس صورتحال کے درمیان ٹربیونل ججوں کی جانب سے ڈیجیٹل پورٹل کی خامیوں کی نشاندہی نے SIR کے پورے عمل میں ریکارڈ، اپیل اور سماعت کے نظام کو لے کر مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔