امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے بڑے پیمانے پر ڈیزل خریدنے کے منصوبے سے متعلق دعوے نے توانائی کی عالمی سیاست اور روس پر عائد پابندیوں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگر امریکہ واقعی روس سے ڈیزل کی بڑی مقدار خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے اثرات توانائی کی منڈی، امریکہ کی خارجہ پالیسی اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے بعض سینئر سینیٹرز نے روس سے براہِ راست ڈیزل خریدنے کے منصوبے پراعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کو روکنے کے لیے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کانگریس میں قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔ اس مخالفت کی بنیادی وجہ روس پر عائد پابندیوں، امریکی قومی سلامتی اور یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کو ممکنہ مالی فائدہ پہنچنے کے خدشات بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم، متعلقہ سینیٹرز کے نام اور مجوزہ قانون سازی کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد یورپی ممالک نے روسی توانائی پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع اختیار کیے۔ اس تبدیلی کے باعث بعض ممالک کو توانائی کی زیادہ قیمتوں اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر امریکہ روس سے بڑی مقدار میں ایندھن خریدتا ہے تو اس سے یورپی اتحادیوں کے درمیان پالیسی اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یوکرین کو یہ تشویش ہو سکتی ہے کہ روس کی توانائی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی جنگی اخراجات میں استعمال ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کسانوں، ٹرک ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کے اخراجات بڑھا سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے اشیاء کی ترسیل اور زرعی سرگرمیوں کی لاگت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا امریکی حکومت کے لیے اہم معاملہ بن سکتا ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیشِ نظر ایندھن کی قیمتوں کا مسئلہ سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔






