2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ادھر اے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( آئی ایم آئی ایم )کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بارے میں اپنا موقف واضح کیا ہے۔ حیدرآباد کےرکن پارلیمنٹ اویسی نے کہا کہ ان کی پارٹی نہیں چاہتی کہ بی جے پی اتر پردیش میں تیسری بار حکومت بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو جماعتیں بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنا چاہتی ہیں وہ اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کیلئے بات چیت کر سکتی ہیں۔
اویسی نے کہا کہ صرف بی جے پی کو روکنا کافی نہیں
بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ بی جے پی کو اکیلے نہیں روک سکتے۔" انہوں نے ہم خیال جماعتوں کو بات چیت شروع کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہو کر بی جےپی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بہار کے انتخابات کی مثال دیتے ہوئے اویسی نے وضاحت کی کہآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے آر جے ڈی، کانگریس، سی پی آئی اور دیگر کمیونسٹ پارٹیوں کے لیڈروں کو خط لکھ کر اتحاد کی پیشکش کی ہے۔ ان کی پارٹی نے اتحاد کے حصے کے طور پر چھ نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس وقت یہ پیشکش قبول نہیں کی گئی۔
'جو بی جے پی کو روکنا چاہتے ہیں وہ بات کر سکتے ہیں'
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ ان کی پارٹی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے، اور لیڈر نچلی سطح پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم اپنی انتخابی تیاریاں جاری رکھے گی۔ اویسی کے مطابق پارٹی کن پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے یا نہیں یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن جو پارٹیاں بی جے پی کو روکنا چاہتی ہیں وہ اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ بات چیت کر سکتی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم نے اتر پردیش میں اتحاد کے لیے تیار ہے۔
مسلم اکثریتی نشستوں پر مجلس کی تیاری
اویسی اور اے آئی ایم آئی ایم اتر پردیش کے مسلم اکثریتی حلقوں پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ پارٹی نے ان علاقوں میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے اور 2027 کے انتخابات کے لیے عوامی جلسوں کے ذریعے اپنی رسائی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے ستمبر 2026 میں اتر پردیش میں کئی عوامی جلسوں بشمول کانپور، شراوستی، اور اعظم گڑھ کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے۔
2027 یو پی کےالیکشن بلکل مختلف
2027 کے الیکشن کی نوعیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'اسمبلی الیکشن آنے والے ہیں، یہ 2014 کے الیکشن نہیں ہوں گے، 2017 کے الیکشن ہوں گے، نہ 2019 کے الیکشن ہوں گے اور نہ ہی 2022 کے الیکشن ہوں گے، یہ بالکل مختلف الیکشن ہونے جا رہے ہیں'۔
بی جے پی کے وعدوں پر تنقید
اویسی نے بی جے پی حکومت کو نا مکمل وعدوں پر تنقید کا نشانہ بنایا اور نظم و نسق، امن و امان، بجلی اور زمینی تنازعات کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک بہت ہی مختلف اور بہت ہی چیلنجنگ الیکشن ہوگا کیونکہ بی جے پی نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے۔"
ایس پی حکومت پر بھی تنقید
پچھلی سماج وادی پارٹی اور موجودہ بی جے پی دونوں حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "جب سماج وادی پارٹی اقتدار میں تھی تو ایک طرح کی غنڈہ گردی ہوتی تھی، کوئی اور کرتا تھا، اب ان کی حکومت میں الگ طرح کی غنڈہ گردی ہو رہی ہے۔"
رامندرچندرہ غبن معاملے پر سوال
انہوں نے شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے مبینہ رام مندر غبن کیس سے نمٹنے پر بھی سوال اٹھایا۔ "ایس آئی ٹی کی رپورٹ عوام کے سامنے کیوں نہیں جاری کی جاتی ہے؟ حکومت اسے کیوں جاری نہیں کرتی ہے؟ اور ان لوگوں کو ضمانت کیوں مل رہی ہے؟ انہیں کیسے ضمانت مل رہی ہے؟ یہ عجیب بات ہے۔ یہ بھی ایک بڑی بات چیت ہوگی،"۔
ایس پی-کانگریس کے درمیان اتحاد کا امکان
اتر پردیش میں، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس پہلے ہی مخلوط سیاست کا حصہ ہیں، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم فی الحال کسی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ اویسی کی کھلی پیشکش نے اتحاد کی بحث کا ایک اور پہلو یوپی کی اپوزیشن کی سیاست میں سامنے لایا ہے۔ تاہم، کون سی پارٹیاں اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ بات چیت میں شامل ہیں اور کیا باضابطہ اتحاد قائم ہوتا ہے اس کا انحصار اس کے بعد آنے والے سیاسی عمل پر ہوگا۔






