صدر زیلنسکی کو سہ فریقی ملاقات کی امید
کیف اور ماسکو نے واشنگٹن کی ثالثی میں
براہِ راست بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ یوکرین، امریکہ اور روس کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان نومبر میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ملاقات ہوگی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس نے رواں سال کے آغاز سے تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کے درمیان سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں کے بعد کیف اور ماسکو دونوں نے واشنگٹن کی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تینوں ممالک کی مذاکراتی ٹیمیں نومبر میں ابوظہبی میں ملاقات کریں گی۔ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو اس کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم، ملاقات کی حتمی تاریخ، ایجنڈے اور دیگر تفصیلات کی باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔ اپنے خطاب کے دوران زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کو اب بھی اسٹار شیلڈ ملٹری کمیونیکیشن سروس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سے ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایلون مسک نے اس سروس تک رسائی بحال کر دی ہے۔
ٹرمپ نے یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ ایک یا دو دن میں مواصلاتی رابطہ معمول پر آ جائے گا۔روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب امریکہ دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطے آگے بڑھانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ کیف اور ماسکو کی جانب سے براہِ راست بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کو اسی سلسلے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ آیا نومبر میں ابوظہبی میں مجوزہ ملاقات ہو پاتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آتی ہے۔







