دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی دیواروں پرمبینہ طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) اور وائس چانسلر کو نشانہ بناتے ہوئے متنازع نعرے پائے گئے ہیں۔ ان تحریروں میں 'فری کشمیر' اور شرجیل امام کو رہا کرو بھی شامل ہے جس سے کیمپس میں ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ نعروں پر اے بی وی پی کی طرف سے سخت اعتراض کیا گیا ہے، جس میں یونیورسٹی کی دیواروں پر لکھے گئے پیغامات پر تنقید کی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پورے معاملے پر کی مذمت کی ہے۔ انتظامیہ نے دیواروں پر پائے گئے نعروں کو مٹا دیا۔ انتظامیہ نے کہا کہ قصور واروں پرسخت کاروائی ہوگی۔
طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال
یہ پیشرفت جامعہ میں جاری طلبہ کے احتجاج کے درمیان ہوئی ہے، جہاں طلبہ یونیورسٹی کی طلبہ یونین کی بحالی اور 2026-27 کے تعلیمی سیشن کے لیے انتخابات کے اعلان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ 12 اکتوبر سے طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال اور دھرنا دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی کی طلبہ یونین کو 2006 میں تحلیل کر دیا گیا تھا۔ مظاہرین اب 27-2026 کے تعلیمی سیشن کے لیے انتخابی شیڈول کے اعلان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے حال ہی میں اس معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ تاہم طلبہ کا یونین کی بحالی کا مطالبہ جاری احتجاج کے مرکز میں ہے۔
شرجیل امام جیل میں کیوں ہیں؟
شرجیل امام کو فروری 2020 کے دہلی فسادات کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ تشدد کے مبینہ کلیدی سازش کاروں میں شامل تھے، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
سی اےاے ، اور این آر سی احتجاج
شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 (سی اے اے) اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے، جس کے بعد پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔جامعہ میں شرجیل امام کی حمایت میں نعروں کا اظہار جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اسی طرح کے ایک واقعے کی اطلاع کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں امام اور عمر خالد کی حمایت میں مظاہروں نے بھی توجہ مبذول کروائی تھی۔
شرجیل امام پر کیا الزامات ہیں؟
شر جیل امام کو اس معاملے میں 25 اگست 2020 کو اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ امام نے 13 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اور 16 دسمبر 2019 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریریں کیں، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر آسام اور شمال مشرق کے دیگر حصوں کو ہندوستان سے الگ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ الزامات اس کے خلاف قانونی کاروائی کا حصہ ہیں اور انہیں یہاں جرم کے ثابت شدہ نتائج کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے۔ حال ہی میں، ایک عدالت نے امام کو اپنی کزن کی شادی میں شرکت کے لیے 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک سات دن کی عبوری ضمانت دی تھی۔






