نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز دہلی میں ہوئے مظاہروں کے پیچھے ’بیرونی ہاتھ‘ ہونے کے مرکزی حکومت کے دعوے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی مرکزی حکومت کسی بحران کا شکار ہوتی ہے تو وہ ’بیرونی سازش‘ کا راگ الاپنے لگتی ہے۔یہاں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے، تین بار وزیراعلیٰ رہ چکے فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ اس ملک کا نام بتائے جو بھارت کے معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، "جب بھی دہلی میں حکومت خطرے میں ہوتی ہے، تو انہیں ’بیرونی ہاتھ‘ نظر آنے لگتا ہے۔ انہیں اپنے (کردار) پر نظر نہیں پڑتی۔ آخر یہ سب کون کر رہا ہے؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے ’بیرونی ہاتھ‘ ہے، تو بتائیں کہ وہ کون ہے؟ کون سا ملک ایسا کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ ہمیں بتائیں۔ ان کے پاس تو کوئی نام ہی نہیں ہے۔ بس ’بیرونی ہاتھ، بیرونی ہاتھ‘ کی رٹ لگائے رکھتے ہیں! ہر معاملے میں انہیں بیرونی ہاتھ ہی نظر آتا ہے۔"
مشرق وسطیٰ کے بحران سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس جنگ کو روکا جائے۔این سی سربراہ نے مزید کہا، "یہ ٹرمپ کی مہربانی ہے جو دنیا میں تباہی لا رہی ہے۔ وہ کب ہوش میں آئیں گے؟ پوری دنیا مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی کو ہی دیکھ لیں، غریب ہر جگہ پس رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ کو روکیں؛ اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایران کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اب بس بھی کیجیے؛ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔"






