Thursday, August 27, 2026 | 12 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بخار اور وائرل انفیکشنز کی اہم وجوہات، علامات اور علاج

بخار اور وائرل انفیکشنز کی اہم وجوہات، علامات اور علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 27, 2026 IST

بخار اور وائرل انفیکشنز کی اہم وجوہات، علامات اور علاج
منصف ٹی وی کے خصوصی  پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Fever & Viral Infections" کے موضوع پر ایک اہم گفتگو پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر راجندر واجراپو، سینئر کنسلٹنٹ اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، کریٹیکل کیئر، کیئر ہاسپٹل، ملک پیٹ، حیدرآباد نے بخار اور وائرل انفیکشنز کی عام وجوہات، علامات، احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج کے حوالے سےمفید معلومات فراہم کیں۔
 
گفتگو کے دوران ڈاکٹر راجندر واجراپو نے بتایا کہ بخار خود کوئی بیماری نہیں بلکہ جسم میں کسی انفیکشن یا دوسرے طبی مسئلے کی علامت ہو سکتا ہے۔ عام طور پر وائرل انفیکشنز میں بخار کے ساتھ نزلہ، کھانسی، گلے میں درد، جسم میں درد، سر درد اور تھکن جیسی شکایات سامنے آتی ہیں۔ زیادہ تر وائرل انفیکشنز مناسب آرام اور نگہداشت کے ساتھ چند دنوں میں بہتر ہو جاتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں بیماری سنگین شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ موسم کی تبدیلی، خاص طور پر بارش کے دنوں میں، مختلف وائرل انفیکشنز کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ بند اور بھیڑ والی جگہوں پر زیادہ وقت گزارنا، متاثرہ شخص کے قریب رہنا اور ہاتھوں کی صفائی کا خیال نہ رکھنا بھی وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ذاتی صفائی اور احتیاط کو معمول کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
 
ڈاکٹر واجراپو نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں میں بخار کے ساتھ ان کے رویے اور دیگر علامات پر بھی نظر رکھیں۔ اسی طرح بزرگ افراد اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا لوگوں میں معمولی نظر آنے والا انفیکشن بھی کبھی کبھار پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے افراد میں مسلسل بخار یا طبیعت بگڑنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
 
انہوں نے خود سے اینٹی بایوٹک لینے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ہر بخار کے لیے اینٹی بایوٹک ضروری نہیں ہوتی، کیونکہ اینٹی بایوٹکس بیکٹیریا کے خلاف استعمال ہوتی ہیں، وائرس کے خلاف نہیں۔ غیر ضروری استعمال سے Antibiotic Resistance کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے دوا کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
 
وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کے لیے انہوں نے ہاتھوں کو باقاعدگی سے صابن سے دھونے، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ ڈھانپنے، بیمار ہونے کی صورت میں غیر ضروری میل جول سے گریز کرنے اور مناسب آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے متوازن غذا اور مناسب مقدار میں پانی یا دیگر سیال چیزوں کے استعمال کو بھی اہم قرار دیا۔
 
پروگرام میں اس بات پر خاص زور دیا گیا کہ سانس لینے میں شدید دشواری، سینے میں درد، مسلسل تیز بخار، غیر معمولی غنودگی یا الجھن، شدید کمزوری، پانی کی کمی یا حالت میں تیزی سے بگاڑ کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کی جائے۔ ایسے حالات میں گھر پر انتظار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر راجندر واجراپو نے کہا کہ ہر بخار کو خطرناک سمجھنے کی ضرورت نہیں، لیکن اسے مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ علامات کو سمجھنا، مناسب احتیاط کرنا اور ضرورت پڑنے پر بروقت طبی مشورہ لینا ہی بہتر راستہ ہے۔ عوامی آگاہی اور ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف مریض کی صحت یابی میں مدد دیتا ہے بلکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
 
 قارئین ڈاکٹر راجندر واجراپو، سینئر کنسلٹنٹ اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، کریٹیکل کیئر، کیئر ہاسپٹل، حیدرآباد، کی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اورہیلتھ سے جڑے کسی بھی  موضوع پر، اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔