مشہور ہریانوی گلوکار انکت بالیان کے قتل کیس میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کی جانب سے علاقے کے مختلف مقامات سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے بعد مبینہ ملزمان کی تصاویر سامنے آئی ہیں، جو اب سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آوروں نے واردات کو انجام دینے سے پہلے علاقے کی مبینہ طور پر ریکی کی تھی۔ یہ واقعہ اتر پردیش کے شاملی ضلع میں صدر کوتوالی تھانے کے دائرہ اختیار کے نالہ پتری آریہ پوری علاقے میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق انکت بالیان جم سے باہر نکل رہا تھا کہ اسی دوران تین سے چار نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کر دی۔ گولی لگنے سے اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
واقعے کی اطلاع ڈائل 112 کے ذریعے پولیس کو دی گئی، جس کے بعد پولیس فوراً موقع پر پہنچی۔ لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ پولیس نے واردات کے بعد آس پاس کے علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی، جس کے ذریعے تفتیش میں اہم سراغ ملنے کی بات سامنے آئی ہے۔
شاملی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس این پی سنگھ کے مطابق، کیس کو جلد حل کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیس قتل کے ہر ممکن زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔ابتدائی جانچ میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ انکت بالیان سونی پت میں رہتے ہوئے موسیقی اور گانوں سے وابستہ تھا اور وہاں کسی تنازعے کے بعد وہ شاملی کے علاقے میں آ گیا تھا۔ اسی وجہ سے پولیس اب ہریانہ اور خاص طور پر سونی پت سے جڑے ممکنہ تنازعے کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ شاملی پولیس اس سلسلے میں ہریانہ پولیس سے بھی رابطے میں ہے۔
دوسری جانب انکت بالیان کے قتل کے بعد خاندان میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اہل خانہ ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گلوکار کی آخری رسومات 27 اگست کو ادا کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے پیش نظر گاؤں میں پولیس اور پی اے سی فورس بھی تعینات کر دی گئی ہے۔اب اس قتل کیس میں سب کی نظریں پولیس کی اگلی کارروائی پر ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے سامنے آنے والی تصاویر کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے، جبکہ قتل کی اصل وجہ اور اس کے پیچھے موجود ممکنہ سازش کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔