دہلی کے جنتر منتر پر 21 اگست کو منعقد ہونے والے ’آرکشن ہٹاؤ‘ یعنی ریزرویشن نظام کے خلاف احتجاج کے بعد تحریک سے وابستہ نمائندوں اور مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر منعقد کی گئی، جہاں احتجاج اور اس سے جڑے مطالبات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں تحریک سے وابستہ ہرش دوبے، رن بہادر سنگھ چوہان اور مرتیونجے پاٹھک سمیت دیگر نمائندے شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور نمائندوں نے احتجاج کے دوران اٹھائے گئے مختلف مسائل اور مطالبات مرکزی وزیر کے سامنے رکھے۔
جے پی نڈا نے اس ملاقات کی معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کے ذریعے بھی شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک کے نمائندوں کے ساتھ متعلقہ معاملات پر بات چیت ہوئی ہے اور وہ اس مسئلے پر جلد ہی ان نمائندوں سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔ 21 اگست کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں ریزرویشن نظام سے متعلق مختلف مطالبات سامنے آئے تھے۔ احتجاج کے بعد مرکزی وزیر اور تحریک کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کو اس معاملے میں آئندہ بات چیت کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب سب کی نظریں جے پی نڈا اور تحریک کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی اگلی ملاقات پر ہوں گی۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ احتجاج کے دوران اٹھائے گئے مطالبات پر حکومت کی جانب سے کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے اور کیا اس معاملے میں کسی ٹھوس پیش رفت یا مزید مذاکرات کا راستہ نکلتا ہے۔
دراصل یہ پوری تحریک سوشل میڈیا، خاص طور پر انسٹاگرام پر شروع ہونے والی ایک مہم کے بعد زور پکڑ گئی، جسے نوجوانوں اور عام زمرے کے طلبہ کی جانب سے نمایاں حمایت حاصل ہوئی۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک سے ملاقات کے بعد تحریک کے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے مطالبات پر مرکزی سطح پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کے بعد جے پی نڈا نے حکومت کی جانب سے ان نمائندوں سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات پر مشتمل میمورنڈم بھی وصول کیا۔