تلنگانہ کانگریس کے کچھ سینئر رہنماؤں نے پارٹی کے اندر میڈیا کے مبینہ استعمال پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کچھ نیوز چینلز ایسے کانگریس لیڈروں کے خلاف منفی خبریں چلا رہے ہیں جو ریاستی قیادت پر تنقید کرتے ہیں۔
رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا الزام
رپورٹ کے مطابق، کانگریس کی ریاستی قیادت پر تنقید کرنے والے کچھ رہنماؤں کے خلاف میڈیا میں خبریں اور رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کو یہ طریقہ پسند نہیں آیا۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی ایسے لوگ ہیں جو طویل عرصے سے کانگریس کے ساتھ وابستہ ہیں اور تلنگانہ میں پارٹی کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔
ملوبھٹی وکرمارکا نے بھی اعتراض کیا تھا
جنوری میں تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا نے سنگارینی ٹینڈرز سے متعلق میڈیا رپورٹس پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے اے بی این آندھرا جیوتی کے منیجنگ ڈائریکٹر ویموری رادھا کرشنا پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کے بارے میں ٹینڈرز سے متعلق غلط معلومات شائع کی گئی ہیں۔ بھٹی وکرمارکا کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹس ان کے کئی سالوں پر محیط سیاسی کیریئر کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر رپورٹس غلط ہیں تو انہیں درست کیا جائے۔
مہیش کمار گوڑ بھی میڈیا رپورٹس سے ناراض
کچھ عرصہ پہلے ایک نیوز چینل نے مہیش کمار گوڑ کی قیادت اور کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے خبریں نشر کی تھیں، جس پرمہیش کمار گوڑ نے جواب دیا تھا۔ اس چینل نے ان کی قیادت اور کارکردگی پر سوال اٹھائے تھے۔ اس وقت مہیش کمار گوڑ دبئی میں تھے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا تھا کہ ان کی کارکردگی کا فیصلہ پارٹی اور پارٹی کارکن کریں گے۔ ان کے مطابق کسی ایک نیوز چینل کی رپورٹ ان کی کارکردگی جانچنے کا معیار نہیں ہو سکتی۔
راج گوپال ریڈی نے بھی خبردار کیا
حلقہ اسمبلی منوگوڑے کے کانگریس ایم ایل اے کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی نے بھی اے بی این آندھرا جیوتی کے منیجنگ ڈائریکٹر ویموری رادھا کرشنا کو خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر کئی رہنما تلنگانہ کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کرتے آئے ہیں اور اپنی عزت اور سیاسی عزم کو نقصان پہنچانے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے۔
کونڈا سریکھا کا معاملہ بھی زیر بحث
اب گاندھی بھون میں کانگریس کے کچھ رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ وزیر جنگلات کونڈا سریکھا کے معاملے میں بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔ کونڈا سریکھا کی بیٹی کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے بارے میں دیے گئے ریمارکس کے بعد تنازع پیدا ہوا تھا۔ کچھ کانگریس رہنماؤں کا سوال ہے کہ ان کی بیٹی کے بیان کے لیے وزیر کونڈا سریکھا کو کس طرح ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ایک سینئر کانگریس رہنما نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کونڈا سریکھا کے خلاف ایک خاص بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ابھی ایسے طریقوں کی مخالفت نہیں کی گئی تو مستقبل میں پارٹی کے دوسرے پرانے اور وفادار رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ تلنگانہ کانگریس کے کچھ سینئر رہنما اس بات سے ناراض ہیں کہ میڈیا کے ایک حصے کے ذریعے پارٹی کے اندر اختلاف رکھنے والے یا ریاستی قیادت پر تنقید کرنے والے رہنماؤں کے خلاف منفی خبریں چلائی جا رہی ہیں۔ ان رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں مزید کانگریس رہنما اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔