• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ کا ایران پر ایک اور حملہ، ٹرمپ نے مزید سخت کاروائی کی دھمکی دی

امریکہ کا ایران پر ایک اور حملہ، ٹرمپ نے مزید سخت کاروائی کی دھمکی دی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 09, 2026 IST

امریکہ کا ایران پر ایک اور حملہ، ٹرمپ نے مزید سخت کاروائی کی دھمکی دی
 
 
امریکہ  نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کاروائی کی ہے۔ امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں حملے کیے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
 
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر یہ نئی کاروائی کی گئی۔ بیان کے مطابق امریکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے اور تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کا جواب دے رہا ہے۔
 
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کو خطرہ لاحق ہوا۔ اسی وجہ سے امریکہ نے مزید فوجی کاروائی کا فیصلہ کیا۔
 
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق چابہار( Chabahar) اور اس کے قریب واقع شہر کونارک(Konarak) میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔  ایران نے ابھی تک ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
 

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ

 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے تجارتی بحری جہازوں پر حملے جاری رکھے تو امریکہ اس سے بھی زیادہ سخت کاروائی کرے گا۔
 
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ حملے ایران کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کا جواب ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوں گے- ٹرمپ نے ایران کے شہر چابہار( Chabahar)میں امریکی حملے کے بعد کی ایک تصویر بھی شیئر کی۔
 

جنگ بندی پر سوالات

امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری جنگ بندی اب ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ حملوں کے بعد جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دونوں ممالک چاہیں تو سفارتی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں اس بات پر شک ہے کہ ان سے کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا۔

عالمی خدشات میں اضافہ

 اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے تنازع کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورتِ حال سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کے خام تیل اور قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ بیانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب امریکہ  اور ایران کے آئندہ اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔