ایران کے سابق رہبراعلیٰ، شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو جمعرات کے روز ملک کے شمال مشرق میں واقع ایران کے مقدس مذہبی مقام مشہد میں سپرد خاک کیا گیا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا کے مزار کے احاطہ میں دفن کیا گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی 28 فروری کو امریکی- اسرائیلی حملوں میں موت ہوئی تھی۔ ایران اورعراق بھر میں منعقد ہوئے جنازے کی چھ روزہ تقریبات کا اختتام ہوا۔ جنازے کی تقریبات ،عوامی اجتماعات اور سوگ کے مناظر کے بعد تدفین عمل میں آئی ہے۔ اور یہ تدفین جنگ بندی کے چند ہفتوں بعد امریکہ کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے درمیان ہوئی۔ آخری رسومات میں عالمی لیڈروں نے شرکت۔ اورخامنہ ای کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
احاطہ امام رضا کے مزارمیں سپرد خاک
خامنہ ای کو ایران کے مقدس ترین شیعہ مزار اورآٹھویں شیعہ امام کی تدفین کی جگہ امام رضا کے مزار پر سپرد خاک کیا گیا۔ اس جگہ پر ایران کے متعدد سابق حکمرانوں اور سابق صدر ابراہیم رئیسی کے مقبرے بھی موجود ہیں، جو 2024 میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق خامنہ ای نے اپنے آبائی شہر میں تدفین کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ انہیں خاندان کے افراد کے ساتھ دفن کیا گیا، بشمول ان کی بیٹی، داماد، نوزائیدہ پوتی اور زہرہ حداد عادل، ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کی اہلیہ، جو سبھی فروری کے حملوں میں مارے گئے تھے۔
مشہد کی سڑکوں پرسوگواروں کا ہجوم
جمعرات کی صبح مشہد کی سڑکوں پر سوگواروں کا ہجوم امڈ آیا ، شرکاء ایرانی پرچم، خامنہ ای کی تصاویر اور انقلابی نعروں پر مبنی بینر لہراتے رہے۔مشہد شہر میں سوگواروں کے ہجوم کے دوران جنازے کے جلوس کے پہنچنے کے انتظار میں کچھ شرکاء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انتقام کے نعرے بھی لگائے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، نماز جنازہ کی امامت سینئر عالم دین آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے کی۔تجدید علاقائی کشیدگی کے درمیان تدفین عمل میں آئی ۔
ہفتے طویل جلوس جنازہ
گذشتہ ہفتے کے دوران جب خامنہ ای کی میت کو ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا تو مذہبی رہنماؤں اور اسلامی جمہوریہ کے کمانڈروں نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ جنازے کی تقریبات میں بڑی تعداد میں شرکت کریں تاکہ مذہبی طبقے کی زیر قیادت نظام کی طاقت اور اس کے نظریاتی جوش و خروش کے ساتھ ساتھ عوامی اثر و رسوخ کا مظاہرہ کیا جا سکے۔خامنہ ای اور ان کے ساتھ ہلاک ہوئے خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ تہران اور ایران میں شیعہ مرجعیت کے مرکز شہر قم کے علاوہ عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے۔ہرجلوس میں سڑکیں بڑے ہجوم سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں جس میں شیعہ نعرے اور انقلابی ورد کیے گئے۔
جنازے میں بیٹے کی عدم موجودگی کا معمہ
آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ گذشتہ فروری میں ہوئے اس حملے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے جس میں ان کے والد شہید ہو گئے تھے اور جس کے نتیجے میں وہ خود بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔مجتبیٰ خامنہ ای جس کو ان کے والد کی موت کے ایک ہفتے بعد مذہبی کونسل نے نیا رہبر اعلیٰ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا کہاں ہے یہ ایران کے عوام کے لیے اب بھی ایک معمہ ہے۔
منظرعام پر نہیں آنے کی وجہ
مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو اپنے والد کی موت کے بعد شروع ہوئی جنگ کے بعد سے کبھی منظر عام پر نہیں آئے۔اگرچہ ان کے نام سے تحریری بیانات جاری کیے گئے ہیں لیکن ان کی کوئی تصویر یا ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ جاری نہیں کی گئی ہے۔مجتبیٰ اسی حملے میں شدید زخمی ہو گئےتھے جس کے نتیجے میں ان کے چہرے پر نشانات پڑ گئے تھے اور اس کے اعضاء کو شدید چوٹیں آئی تھیں۔تہران میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں مگر وہ ابھی اس قابل نہیں کہ عوامی سطح پر نمودار ہو سکیں، جبکہ سکیورٹی ادارے بھی امریکہ کی جانب سے کسی نئے حملے کے خدشے کے پیش نظر اس کے منظر عام پر آنے کو محدود رکھنا چاہتے ہیں۔مجتبیٰ خامنہ ای کو انقلابی گارڈز کی حمایت سے تعینات کیا گیا ہے جنہیں اب ایران میں سیاسی اور تزویراتی فکر پر حاوی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
خامنہ ای کےدور کا اختتام
یہ جنازہ ایران کے لیے ایک اہم موڑ پر ہو رہا ہے کیونکہ یہ خامنہ ای کے تقریباً چار دہائیوں پر محیط دور حکومت کا اختتام ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مذہبی قیادت کے خلاف ملک گیر عوامی احتجاج کے حالیہ لہر کو چند ماہ ہی گزرے ہیں۔سکیورٹی فورسز نے ان مظاہروں کو کچل دیا تھا جو پابندیوں کی وجہ سے معاشی مسائل میں اضافے کے باعث بھڑکے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا جس کا انداز گذشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے تشدد کے دیگر واقعات جیسا ہی تھا۔
1989 میں منتخب ہوئے تھے رہبر اعلیٰ
خامنہ ای کو اسلامی انقلاب کے ایک دہائی بعد سنہ 1989ء میں ایران کا رہبر اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا اور انہوں نے دہائیوں تک سیاسی و اقتصادی اور عسکری طاقت کو مضبوط کیا۔یہ کوشش جس نے منتخب صدر اور پارلیمنٹ کو بڑے پیمانے پر غیر موثر کر دیا تھا پاسداران انقلاب کے ساتھ ہم آہنگی سے انجام دی گئی جن کا اثر خامنہ ای کے دور حکومت میں بڑھتا رہا۔