مغربی بنگال اسمبلی میں جمعرات، 5 فروری 2026 کو ایک اہم قرارداد پیش کی گئی۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں خوف و ہراس کی وجہ سے 107 لوگوں کی موت اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کی وجہ سے ہوئی۔
مغربی بنگال اسمبلی میں ریاستی پارلیمانی امور کے وزیر شوون دیب چٹرجی نے رول 169 کے تحت یہ قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے ووٹر لسٹ کے نظرثانی کے نام پر ریاست میں خوف اور غیر یقینی کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ قرارداد کے مطابق، بڑی تعداد میں لوگ اس خوف سے دوچار ہیں کہ کہیں ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف نہ کر دیا جائے۔ اسی ذہنی دباؤ اور پریشانی کی وجہ سے 107 لوگوں کی جانیں جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان میں خودکشی کے واقعات بھی شامل ہیں۔
حکومت این آر سی کو ایس آئی آر کے ذریعے نافذ کرنا چاہتی ہے: ممتا
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایس آئی آر کے خوف سے روزانہ 3 سے 4 لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایس آئی آر کو این آر سی کا بیک ڈور قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی بنگال کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کر رہا ہے اور مرکزی حکومت کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ سی ایم ممتا بنرجی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو ان اموات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
ممتا حکومت انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے: بی جے پی
دوسری جانب بی جے پی نے ان الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر لوگوں میں افواہیں پھیلا رہی ہے۔ ٹی ایم سی نے جن اموات کا حوالہ دیا ہے وہ انفرادی واقعات ہیں اور ان پر سیاست کرنا غلط ہے۔ بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کا ایس آئی آر ایک عام اور معمول کا عمل ہے اور اسے خوف سے جوڑنا غلط ہے۔