نئی دہلی کے تھنک ٹینک۔سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس۔کے سربراہ او پی شاہ نے بھارت اور پاکستان کے وزراء اعظم کو بات چیت شروع کرنے حوالے سے ایک خط لکھا ہے۔ اس خط پر دونوں ملکوں کے116ممتاز سول سوسائٹی رہنماؤں نے دستخط کئے ہیں۔ جموں و کشمیر کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اس اہم قدم کا خیرمقدم کیا ہے۔ میرواعظِ کشمیر مولوی محمدعمر فاروق نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کا واحد راستہ صرف اور صرف انڈیا۔پاکستان مذاکرات ہی ہیں۔
30 جون کو لکھا ہند۔پاک وزیراعظم کو خط
سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے چیئرمین او پی شاہ کے تعاون سے 30 جون کو لکھے گئے خط پر 61 ہندوستانیوں اور 55 پاکستانیوں نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ "مسلسل مصروفیت اور بات چیت ہی اختلافات کو حل کرنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے"۔دستخط کنندگان نے مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، ہائی کمشنرز کی بحالی، معمول کی ویزا خدمات کی بحالی اور تمام تصفیہ طلب امور پر جامع دو طرفہ مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جموں وکشمیر پر بھی بات چیت کی اپیل
انہوں نے جموں و کشمیر پر بھی بات چیت کی اپیل کی ہے، جس میں 2004 اور 2007 کے درمیان طے پانے والے فریم ورک پر نظر ثانی کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے "جائز سیکورٹی خدشات" کو حل کرتے ہوئے تناؤ میں کمی کی طرف اقدامات شامل ہیں۔اپیل میں تجارتی راستے دوبارہ کھولنے، معمول کے تجارتی تعلقات کی بحالی، ایم ایف این کی بحالی یا مساوی غیر امتیازی تجارتی انتظامات اور اٹاری واہگہ زمینی سرحد کو دوبارہ کھولنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
سڑک، ریل رابطہ دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ
خط میں دہلی-لاہور بس سروس، سرینگر-مظفر آباد بس سروس، سمجھوتہ ایکسپریس اور تھار ایکسپریس کو دوبارہ شروع کرنے، کرگل-سکردو روٹ کو کھولنے اور تجارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ کرتار پور صاحب کوریڈور کو دوبارہ کھولنے، یاتریوں کے لیے شاردا پیٹھ کھولنے، سفری پابندیوں میں نرمی، طلبہ، صحافیوں، فنکاروں اور کاروباری افراد کے درمیان زیادہ سے زیادہ تبادلے اور میڈیا آؤٹ لیٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
امن خط کو ایک خوش آئند قدم: این سی
نیشنل کانفرنس نے او پی شاہ کے امن خط کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔ اور اسے وقت کی ضرورت کہا ہے ۔ پارٹی کے سینئر رہنما و سابق ایم ایل سی شیخ بشیر نے منصف ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی سطح پر تنازعات کا حل بات چیت سے ہو سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں۔
سارک تنظیم ہودوبارہ بحال، برصغیر ہو امن کی مثال:محبوبہ مفتی
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر پاک۔ہند تعلقات کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔ سرینگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان سارک تنظیم کو دوبارہ فعال کر کے برصغیر میں امن و امان کی ایک بہترین مثال قائم کر سکتے ہیں۔ محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں۔
جموں و کشمیر کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک گیٹ وے
جموں کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ، "دنیا کو دیکھیے، ایران کو دیکھو اور کس طرح اس نے عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کا فائدہ اٹھایا۔ اسی طرح جموں و کشمیر جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والے گیٹ وے کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ دیکھیں کہ پاکستان کس طرح اپنے اسٹریٹجک محل وقوع سے فائدہ اٹھا رہا ہے؛ ہمارا جموں و کشمیر بھی ایک منفرد اسٹریٹجک مقام اور جغرافیہ کا مالک ہے۔اگر ہم جموں و کشمیر کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک گیٹ وے میں تبدیل کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف خطے کے منظر نامے کو بدل دے گا بلکہ ہمارے ملک کے لیے اہم آسانی اور فوائد بھی لائے گئے۔
میرواعظ کے ہند۔پاک بات چیت والے بیان کا خیرمقدم
جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے میرواعظ کے ہند۔پاک بات چیت والے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ سرینگر میں ایک تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ میرواعظ عمر فاروق ایک مذہبی رہنما ہیں اور کسی بھی قسم کی تنقید سے اُن کے رتبے میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔