ہماچل کےلاہول سپتی ضلع میں خوفناک حادثہ
لینڈ سلائیڈ سے ایک چلتی ٹیکسی پر گرے پتھر
13 افراد موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے
ہماچل پردیش کے دور دراز کے لاہول سپتی ضلع میں جمعہ کو ایک خوفناک سانحہ پیش آیا۔ شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے ٹاٹا سومو گاڑی تباہ ہو گئی اور اس میں سوار افراد ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے میں 13 مسافر موقع پر ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ حادثہ کے وقت گاڑی کولو سے پنگی جا رہی تھی۔
یہ حادثہ ادے پور کلر ہائی وے پر کڈو نالہ کے قریب پیش آیا۔ حکام نے گزشتہ روز لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک بند کر دی تھی۔ اس کی وجہ سے مسافروں والی گاڑی رات بھر ٹنڈی گاؤں میں پھنسی رہی۔ حکام نے جمعہ کی صبح سڑک کو بحال کیا اور ٹاٹا سومو نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔ تاہم، بڑا حادثہ اس وقت پیش آیا جب سفر شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گاڑی پر بڑے بڑے پتھر گرے۔
اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کاروائیاں شروع کر دیں۔ حکام نے حادثے میں 13 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ وہ فی الحال مرنے والوں کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ میں ایک ٹیکسی کے ملبے تلے دب جانے سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ۔ ڈرائیور کی شناخت بیر سنگھ کے طور پر کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی میں 10 سے 12 افراد سوار تھے۔
فون نکالنے کی کوشش کےدوران 2 جونیئر ڈاکٹرجھیل میں ڈوب گئے
حکام نے بتایا کہ جمعہ کی صبح جھارکھنڈ کے مشرقی سنگھ بھوم ضلع میں دو جونیئر ڈاکٹر جھیل میں ڈوب گئے۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری ایم جی ایم میڈیکل کالج اور اسپتال کے تین جونیئر ڈاکٹر صبح 3 بجے کے قریب جمشید پور کی ڈمنا جھیل پر ٹہلنے کے لیے گئے تھے جب ان میں سے ایک نے غلطی سے جھیل کے سلوس گیٹس کے قریب اپنا موبائل فون پانی میں گرا دیا۔
ایم جی ایم ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بلرام جھا نے بتایا کہ ڈاکٹروں میں سے ایک فون بازیافت کرنے کے لیے ذخائر میں داخل ہوا لیکن گہرے پانی میں جانے کے بعد ڈوب گئے۔