مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے اثرات عالمی توانائی سپلائی پر واضح طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں، جہاں بھارت کے ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے 19 جہاز آبنائے ہرمز میں پھنس گئے ہیں۔ یہ صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
بین وزارتی بریفنگ کے دوران وزارتِ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے خصوصی سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بتایا کہ ان جہازوں میں 10 غیر ملکی پرچم والے بحری جہاز شامل ہیں۔ ان میں تین ایل پی جی بردار جہاز، چار خام تیل کے ٹینکرز اور تین ایل این جی کیریئرز شامل ہیں، جو اس وقت آبنائے ہرمز میں رکے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ بھارتی پرچم والے جہاز بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں تین ایل پی جی ٹینکرز، ایک ایل این جی کیریئر اور چار خام تیل کے ٹینکر شامل ہیں، جبکہ ایک اور ٹینکر ایل پی جی لوڈ کر رہا ہے۔ یہ تمام جہاز ان تقریباً 500 عالمی بحری جہازوں کا حصہ ہیں جو مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم کچھ مثبت پیشرفت بھی سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک آٹھ بھارتی پرچم والے جہاز محفوظ طریقے سے اس خطرناک علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان میں دو ایل پی جی کیریئرز بھی شامل ہیں، جو تقریباً 94 ہزار ٹن ایل پی جی کارگو لے کر بحفاظت اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں مزید رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔