• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • مغربی ایشیا میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ، ایران-امریکہ پس پردہ مذاکرات کے اشارے

مغربی ایشیا میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ، ایران-امریکہ پس پردہ مذاکرات کے اشارے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Mar 31, 2026 IST

مغربی ایشیا میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ، ایران-امریکہ پس پردہ مذاکرات کے اشارے
مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کر رہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کے شدید حملوں کے بعد مزید بگڑ گئی ہے۔ میزائلوں اور ڈرون حملوں کے تسلسل کے ساتھ یہ تنازعہ اب 31ویں دن میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث پورے خطے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔
 
اس نازک صورتحال کے درمیان وائٹ ہاؤس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اہم دعویٰ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق، اگرچہ ایران کی جانب سے عوامی سطح پر سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، تاہم پس پردہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے بعض حلقے موجودہ حالات سے مایوس دکھائی دیتے ہیں اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو یہ احساس ہے کہ اگر فوری طور پر بات چیت کا آغاز نہ کیا گیا تو اسے مزید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس اور بیانات مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔
 
دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ لبنان کے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ یونٹ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار دو سو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد تین ہزار پانچ سو سے زائد ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2 مارچ کے بعد تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور صرف اتوار کے روز ہی 49 افراد جاں بحق جبکہ 116 زخمی ہوئے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملے تاحال جاری ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔