تلنگانہ میں سرکاری زیر انتظام رہائشی اسکولوں میں ایک اورفوڈ پوائزننگ کا واقعہ پیش آیا۔ جمعرات کو ضلع ناگرکرنول کے ایک قبائلی رہائشی اسکول میں 26 طلباء بیمار ہوگئے۔امرآباد منڈل کے مننور گاؤں کے چنچو قبائلی سرکاری رہائشی اسکول میں ناشتہ کرنے کے بعد طلباء بیمار ہوگئے۔
طلباء، ناشتے کے فوراً بعد، اسہال کی علامات ظاہرکی۔ متاثرہ طالب علموں کو مننور کے سرکاری اسپتال لے جایا گیا اوروافر مقدارمیں بستروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے دوسرے اسپتال لے جایا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ نے بستروں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے طالب علموں کو علاج کے لیے ہسپتال کے پر فرش لیٹا دیا ۔ ہسپتال میں سہولیات نہ ہونے پر والدین نے حکام سے اپنا احتجاج درج کروایا ۔متاثرہ طلباء کو بعد میں اچم پیٹ ایریا اسپتال منتقل کیا گیا۔کچھ طالب علموں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ناشتے میں دی گئی 'کھچڑی' میں کیڑے دیکھے۔
یہ واقعہ کاماریڈی گروکل اسکول میں فوڈ پوائزننگ کے واقعہ کے چند دن بعد پیش آیا ہے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد بیمار ہونے کے بعد 33 طلبا کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔نئے تعلیمی سال کے آغاز سے رہائشی اسکولوں میں خراب آلود کھانے کے دو واقعات نے ایک بار پھر رہائشی اسکولوں میں طلباء کو پیش کیے جانے والے کھانے کے حوالے سے خدشات کو اْجاگر کیا ہے۔
گزشتہ سال جولائی میں، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے ریاستی حکومت کو مشتبہ فوڈ پوائزننگ کے 800 سے زیادہ واقعات کی رپورٹوں کی تحقیقات کرنے اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔این ایچ آر سی کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیم نے کہا کہ کمیشن نے خراب غذائی اشیا دینے کے معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ این ایچ آر سی کی توجہ میں یہ بات آئی کہ تلنگانہ بھر کے گروکل اسکولوں میں فوڈ پوائزننگ کے 886 واقعات میں تقریباً 48 طلبہ کی موت واقع ہوئی ہے۔
دریں اثناء نظام آباد ضلع میں تلنگانہ یونیورسٹی کے طلباء نے پینے کے پانی کے بحران کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات کو زبردست احتجاج کیا۔حالیہ دنوں میں پانی کی مناسب فراہمی نہ ہونے پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے یونیورسٹی پہنچنے والی آر ٹی سی بس کو روک کر احتجاج کیا۔