Monday, August 17, 2026 | 02 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • بنگال کے بیر بھوم میں تاراپیتھ مندر کے قریب ہوٹل میں آگ لگنے سے8عقیدت مند ہلاک

بنگال کے بیر بھوم میں تاراپیتھ مندر کے قریب ہوٹل میں آگ لگنے سے8عقیدت مند ہلاک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Aug 17, 2026 IST

بنگال کے بیر بھوم میں تاراپیتھ مندر کے قریب ہوٹل میں آگ لگنے سے8عقیدت مند ہلاک
مغربی بنگال کے بیر بھوم میں آج صبح ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے کم از کم آٹھ  افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ مندر کے شہر تاراپیتھ میں واقع چار منزلہ ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر صبح تقریباً 4:30 بجے آگ اس وقت لگی، جب زیادہ  لوگ  سو رہے تھے۔فائر ڈیپارٹمنٹ کے ابتدائی تخمینہ کے مطابق آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہو سکتی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔

آٹھ افراد کی موت 

 مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کے تاراپیٹھ میں ایک ہوٹل کے مالک کو گرفتار کیا ہے جہاں خوفناک آگ لگ گئی تھی، جس میں آٹھ یاتری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ہوٹل کے حکام نے آگ کو روکنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کیے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ پیر کو ہوٹل میں صبح سویرے لگنے والی آگ میں کم از کم آٹھ افراد، جن میں بنیادی طور پرعقیدت مند تھے، ہلاک اور متعدد دیگر شدید زخمی ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ مندر کے شہر تاراپیتھ میں واقع چار منزلہ ہوٹل کی عمارت کے گراؤنڈ فلور پر صبح 5 بجے کے قریب آگ اس وقت لگی جب زیادہ تر مہمان سو رہے تھے۔

تین گھنٹے کی جدوجہد کےبعد آگ پر قابو پالیا گیا 

فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور لگ بھگ تین گھنٹے میں آگ پر قابو پالیا۔زخمیوں کو رام پورہاٹ گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال لے جایا گیا ہے۔ہوٹل حکام نے دعویٰ کیا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔تاراپیتھ کالی مندر کے قریب واقع ہوٹل 'بیدیشینی' کے گرفتار مالک کلیان پال نے دعویٰ کیا کہ ہوٹل کے فائر سیفٹی اقدامات میں کوئی خامی نہیں تھی اور عمارت کے عقب میں باہر نکلنے کا دروازہ تھا۔

آگ لگتے ہی بجلی کاٹ دی گئی

 زخمیوں نے موقع پر صحافیوں کو بتایا۔"آج صبح آگ لگنے کے فوراً بعد ہمارے عملے نے ہوٹل میں بجلی کا کنکشن کاٹ دیا، پورا ہوٹل کمپلیکس اچانک اندھیرے میں ڈوب گیا جس کے نتیجے میں اندر کےلوگ  ہوٹل سے باہر نہیں نکل سکے، آگ، اندھیرے اور دھوئیں کی وجہ سے پریشان افراد باہر نکلنے کا دروازہ تلاش نہیں کر سکے۔" انہوں نے ہوٹل کے ریسیپشن کے ذریعے براہ راست آگ سے باہر آنے کی کوشش کی۔

 پولیس اور فائر بریگیڈ موقع پر پہنچے

پولیس اور فائر بریگیڈ ذرائع کے مطابق 9 بے ہوش افراد سمیت 22 زخمیوں کو بچا لیا گیا۔ بہت سے زخمیوں کو سرکاری ٹیچنگ ہسپتال میں علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔بنگالی 'شراون' مہینے کے آخری پیر کو ریاست بھر سے ہزاروں یاتری مندر کے شہر تاراپیتھ میں مندر میں 'پوجا'  کےلئے آئے تھے۔
اچانک دھماکوں کی آواز سے مختلف ہوٹلوں میں بیٹھنے والے خوف و ہراس کے عالم میں جاگ اٹھے۔

باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل سکا 

آگ سے تباہ ہونے والے ہوٹل کے بہت سے افراد نے دیکھا کہ آگ کے شعلے ان کے کمروں کی طرف بڑھ رہے تھے، عملی طور پر انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، جب انہوں نے پیر کی صبح اپنے دروازے کھولے تھے۔ انہوں نے شعلوں کو دیکھتے ہی دروازے بند کر دیے اور مدد کے لیے مقامی فائر سروسز اور پولیس سٹیشن کو کال کرنے کی کوشش کی۔یاتریوں نے الزام لگایا کہ انہیں پچھلے دروازے سے باہر نکلنے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا اور اندھیرے کی وجہ سے ہوٹل سے باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں مل سکا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھویں اور کھڑکیاں نہ ہونے کی وجہ سے اکثر کمروں میں دم گھٹنے لگا۔ ان میں سے کئی کمروں کے اندر دم گھٹنے سے بیمار پڑ گئے۔

 عینی شاہدین کا بیان 

ریاست کے کوچ بہار ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک یاتری دیبادریتا دتہ نے میڈیا کو بتایا، "میں ہوٹل کی دوسری منزل کے کمرے میں تھی، کسی طرح برآمدے کی برساتی نالی(پائپ) سے نیچے آنے میں کامیاب ہوگئی۔ ہم سو رہے تھے لیکن باہر سے اچانک چیخنے کی آواز سن کر بیدار ہو گئے۔ میں نے دروازہ کھولا اور دیکھا کہ بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی اور ہوٹل کے نیچے آنے کے بارے میں مزید کچھ معلوم ہوا۔"

 پولیس کر رہی ہے معاملہ کی جانچ 

بیر بھوم کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نیلیش سری کانت نے کہا، "زخمیوں کو رام پورہاٹ گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔"ہوٹل کے اندر موجود آرائشی اور فائبر مواد سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔ دھواں بالائی منزلوں تک پھیل گیا اور کئی مہمانوں کو اپنے کمروں میں پھنسا دیا۔

 بچ نکلنے والی خاتون کا بیان 

کولکتہ کی ایک خاتون، جو آگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی، نے ہوٹل کے اندر خوف و ہراس کو یاد کیا۔ "اچانک، پورا ہوٹل دھویں میں ڈھل گیا۔ ہم سانس نہیں لے پا رہے تھے، اور فرار کا راستہ تلاش کرنا مشکل ہو گیا تھا،" اس نے کہا۔ ہسپتال لے جانے والے کئی زخمی شدید جھلس گئے۔
ایک اور مہمان تپن جیوتی مونڈل نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ تقریباً 45 منٹ تک اپنے کمرے میں پھنسے رہے۔ "ہم آگ کی وجہ سے دروازے سے باہر نہیں آسکے۔ چونکہ کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی، اس لیے وہ باتھ روم کی چھت کے قریب کھلے دروازے سے فرار ہو گئے،" انہوں نے کہا۔واقعہ میں مونڈل کی والدہ بے ہوش جبکہ ان کی بہن کو چوٹیں آئیں۔