Wednesday, June 24, 2026 | 07 محرم 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • سرینگرمیں 8 محرم الحرام کا روایتی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمد، ہزاروں عزادار شریک

سرینگرمیں 8 محرم الحرام کا روایتی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمد، ہزاروں عزادار شریک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 24, 2026 IST

سرینگرمیں 8 محرم الحرام کا روایتی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمد، ہزاروں عزادار شریک
سخت حفاظتی انتظامات کے تحت سری نگر شہر میں آج 8 محرم الحرام کا روایتی جلوس انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالا گیا۔ گورو بازار سے شروع ہونے والا یہ جلوس بڑھ شاہ کدل اور ایم اے روڈ سے ہوتا ہوا ڈلگیٹ پہنچا۔ اورپرُ امن اختتام پذیر ہوا۔ سوگواروں نے سیاہ جھنڈے اٹھا کر شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ راستے بھر سبیلیں اور طبی کیمپ قائم کیے گئے تھے جبکہ جلوس کے شرکاء ماتم کرتے ہوئے غم کا اظہار کر رہے تھے۔ 
 
شرکاء نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے میدان کربلا میں اسلام کی بقاء کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ایسی مثال قائم کی جس نے رہتی دنیا تک حق و باطل کا معیار طے کر دیا۔ اور کربلا  سے ہمیں یہی پیغام  ملتا ہے کہ مظلوم کا ساتھ دیا جائے۔ اور حق کی آواز اٹھائی جائے۔
 
انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ ٹریفک کے متبادل راستے بھی متعین کیے گئے تھے۔ گز شتہ چند برسوں کی طرح امسال بھی ایل جی کی جانب سے آٹھویں محرم کے اس ماتمی جلوس کو نکالنے کی اجازت دی گئی۔
 
آٹھویں محرم الحرام کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں عزادار ایک بار پھر بڈگام کی سڑکوں پر حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے نکل آئے۔ بڈگام کے مختلف علاقوں میں جلوسِ عزا برآمد کیے گئے، جہاں عقیدت مندوں نے مرثیہ خوانی، نوحہ خوانی اور مجالسِ عزا کے ذریعے واقعۂ کربلا کی یاد تازہ کی۔ عزاداروں نے میدانِ کربلا کے عظیم اور دردناک واقعات کو یاد کرتے ہوئے حضرت امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ جلوسوں میں امن، اتحاد اور انسانیت کے پیغام کو اجاگر کیا گیا جبکہ شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کی یاد میں غم و احترام کا اظہار کیا گیا۔
 
فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دیتے ہوئے ہر سال کی طرح اس سال بھی آٹھویں محرم کے موقع پر ایچ کے ایجنسی  کی جانب سے سری نگر کے ڈل گیٹ میں ایک سبیل کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد عزاداران کے لیے شربت اور دیگر اشیائے خورد و نوش مہیا کرنا اور انہیں سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں عزاداران نے سبیل سے استفادہ کیا، جبکہ منتظمین نے کہا کہ عزاداران کی خدمت اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا ہی اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔
 
  ایس ایس سرینگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی نےکہا کہ آٹھویں محرم کے جلوس کے لیے وسیع سکیورٹی، ٹریفک اور شہری انتظامات کیے گئے ہیں اس کے ہموار اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ڈرون نگرانی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر پولیس نے نیم فوجی دستوں اور ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر، جلوس کے آغاز سے لے کر اختتامی مقام تک حفاظت کے معقول حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ تاہم انہوں نے عوام اور خاص کر جلوس کے منتظمین سے تعاون اور حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔
 
آئندہ 10ویں محرم کے جلوس کے بارے میں ایس ایس پی سرینگر نے کہا کہ زڈیبل کے علاقے میں مرکزی جلوس کے لیے پہلے سے ہی سیکورٹی کے جامع انتظامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔یہ مرکزی جلوس ہے جس کے کامیاب اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہم پُرعزم ہیں۔
 
ادھرانجمن شرعی شیعیان نے پریس کانفرنس میں محرم الحرام کے حکومتی انتظامات کو ناکافی اور غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے شیعہ اکثریتی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے زور دیا کہ ماضی کی طرح آبی گذر سے زڈی بل علی پارک تک روایتی 10 محرم کے تاریخی جلوس پر عائد پابندی اب ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جلوس کشمیر کی مشترکہ تہذیب کی علامت ہے، اس لیے انتظامیہ مذہبی اجتماعات سے متعلق فیصلے کرتے وقت عوامی جذبات اور تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھے۔