Tuesday, February 17, 2026 | 29, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • پھول توڑنے گئی 8 سالہ معصوم بچی سے 50 سالہ شخص نے کی درندگی

پھول توڑنے گئی 8 سالہ معصوم بچی سے 50 سالہ شخص نے کی درندگی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 16, 2026 IST

پھول توڑنے گئی 8 سالہ معصوم بچی سے 50 سالہ شخص نے کی درندگی
بہار کے لکھی سرائے ضلع میں انسانیت کو شرمسار کرنے والی اور  دل دہلا دینے والی واردات پیش آئی۔ میدینی چوکی تھانہ علاقے کے ایک گاؤں میں مہاشیو راتری کے لیے پھول توڑنے گئی 8 سالہ بچی کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر شخص نے درندگی کی۔ تاہم گاؤں والوں کی فوری ایکشن کی بدولت ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کر کے جوڈیشل حراست میں جیل بھیج دیا ہے۔
 
بچی پوجا کے لیے پھول توڑنے گئی تھی:
 
بتا دیں کہ اتوار کی صبح 9 سے 10 بجے کے درمیان 8 سالہ بچی ماں سے اجازت لے کر گھر کے قریب باغ میں پھول توڑنے گئی تھی۔ اسی دوران، اسی گاؤں کا رہنے والا 50 سالہ گوپال مشرا نے سنسان باغ کا فائدہ اٹھا کر بچی کو بہلا فسلا کر اپنے گھر لے گیا۔ وہاں اس نے درندگی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے معصوم بچی کے ساتھ ریپ کیا۔
 
چیخیں سن کر گاؤں والے پہنچے:
 
جب ملزم کے بند کمرے سے بچی کی چیخیں اور چیخنے کی آوازیں آنے لگیں تو قریب میں چائے بیچنے والی ایک خاتون اور پڑوسیوں کو شک ہوا۔ گاؤں والوں نے کھڑکی سے جھانکا تو وہ ہکا بکا رہ گئے۔ وہ فوراً دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے جہاں انہیں بچی خون سے لت پت اور بدحواس حالت میں ملی۔ غصے میں بھرے گاؤں والوں نے ملزم کو موقع پر ہی پکڑ لیا اور پولیس کو اطلاع دی۔
 
FSL نے ثبوت اکٹھے کیے:
 
اطلاع ملتے ہی تھانہ انچارج چترنجن کمار اور ایس ڈی پی او شیوم کمار بھاری پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے ملزم گوپال مشرا کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے FSL ٹیم کو بلایا گیا۔ تفتیش کے دوران کمرے میں بستر، تکیہ اور چادریں خون آلود ملیں۔ ملزم کے جسم پر جدوجہد کے نشانات اور خون کے دھبے بھی ملے جنہیں سائنٹیفک جانچ کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔
 
10 سال پہلے بیوی چھوڑ کر چلی گئی تھی:
 
گاؤں والوں کے مطابق ملزم گوپال مشرا کی بیوی اور بچے 10 سال پہلے اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے اور وہ اکیلا رہتا تھا۔ وہ پہلے سے ہی منچلہ مزاج کا تھا اور اکثر عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ غلط رویہ رکھتا تھا۔ تاہم اس کے خلاف پہلے کوئی تحریری شکایت درج نہیں ہوئی تھی، لیکن اس بار اس نے جو معصوم بچی کے ساتھ کیا، اس سے پورا معاشرہ شرمسار ہو گیا ہے۔
 
ایک ماہ میں سزا دلائیں گے – پولیس
 
متاثرہ بچی کو فوری طور پر لکھی سرائے صدر ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اس کی جسمانی اور ذہنی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایس ڈی پی او شیوم کمار نے کہا ہے کہ اس کیس میں فاسٹ ٹریک ٹرائل چلایا جائے گا۔ پولیس کا مقصد ایک ماہ کے اندر عدالت میں تمام ثبوت پیش کر کے ملزم کو سخت سے سخت سزا دلانا ہے۔یہ واردات مہاشیو راتری جیسے مقدس دن پر پیش آئی جس نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔