Monday, February 16, 2026 | 28, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • فیٹی لیور: ایک خاموش مگر قابلِ علاج بیماری

فیٹی لیور: ایک خاموش مگر قابلِ علاج بیماری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 16, 2026 IST

فیٹی لیور: ایک خاموش مگر قابلِ علاج بیماری
موجودہ دور میں تیزی سے بدلتی ہوئی طرزِ زندگی اور غیر متوازن خوراک کے باعث فیٹی لیور ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری اکثر بغیر کسی واضح علامت کے بڑھتی رہتی ہے، اسی لیے اسے “سائلنٹ ڈیزیز” بھی کہا جاتا ہے۔
 
یَشودا ہاسپٹلس، ملک پیٹ حیدرآباد کے سینئر گیسٹروانٹرولوجسٹ ڈاکٹر روی شنکر نے منصف ٹی وی کےخاص پروگرام ہیلتھ اور ہم میں اس موضوع پر تفصیلی بات کی۔ ڈاکٹر روی  کے مطابق جب جگر میں چربی کی مقدار پانچ سے دس فیصد سے زیادہ ہو جائے تو الٹراساؤنڈ میں فیٹی لیور کی تشخیص ہو جاتی ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں اس مرض کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ غیر صحت بخش غذا، فاسٹ فوڈ، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور جسمانی سرگرمی میں کمی ہے۔

فیٹی لیور کیوں ہوتا ہے؟

جسم میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی زیادتی جگر میں چربی جمع ہونے کا سبب بنتی ہے۔ موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور الکحل کا استعمال اس کے اہم خطراتی عوامل ہیں۔ ماہرین اب اسے “میٹابولک اسوسی ایٹڈ لیور ڈیزیز” بھی قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ میٹابولک مسائل سے جڑا ہوتا ہے۔

علامات اور پیچیدگیاں

زیادہ تر مریضوں میں کوئی خاص علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ بعض افراد کو اوپری پیٹ میں ہلکی تکلیف محسوس ہو سکتی ہے، مگر عموماً یہ بیماری کسی اور ٹیسٹ کے دوران سامنے آتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ فائبروسس، پھر سروسس اور حتیٰ کہ جگر کے کینسر تک جا سکتی ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

ابتدائی طور پر الٹراساؤنڈ کے ذریعے فیٹی لیور کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ مزید جانچ کے لیے فائبرو اسکین یا لیور الاسٹوگرافی جیسے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جن سے جگر میں چربی اور سختی (اسٹیفنس) کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔

کیا یہ مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟

اچھی خبر یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں فیٹی لیور مکمل طور پر قابلِ واپسی (ریورسبل) ہے۔ اگر مریض اپنا وزن کم کرے، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھے اور الکحل ترک کر دے تو جگر دوبارہ صحت مند ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کم از کم دس سے پندرہ فیصد وزن میں کمی نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور جلد سونے کی عادت اپنانا نہایت ضروری ہے۔ رات گئے کھانے اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کیا جائے۔ سرخ گوشت اور چکنائی والی اشیا کم استعمال کریں جبکہ روزانہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں۔
 
ماہرین کا پیغام واضح ہے: فیٹی لیور کو نظرانداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں آپ کو سنگین پیچیدگیوں سے بچا سکتی ہیں۔ صحت مند جگر، صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ قارئین آپ اس موضوع پر ڈاکٹر کی مکمل بات چیت  یہاں دیکھ سکتےہیں۔