اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع کے مملانہ روڈ کے رہنے والے ساجد نے 4 فروری کو سعودی عرب میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ساجد اپنی اہلیہ گلفشا سے ویڈیو کال پر بات کر رہے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بات چیت کے دوران دونوں کے درمیان کسی بات پر بحث ہوئی، جس کے بعد ساجد نے یہ انتہائی قدم اٹھا لیا۔ اس واقعے کے بعد اہل خانہ میں کہرام مچا ہوا ہے۔
اگست 2025 میں سعودی عرب روانگی:
اطلاعات کے مطابق، ساجد 16 اگست 2025 کو روزگار کے سلسلے میں پہلی بار سعودی عرب گیا تھا، جہاں وہ بطور فیملی ڈرائیور کام کر رہا تھا۔ ساجد کی شادی 2020 میں برلا گاؤں کی رہائشی گل افشاں سے ہوئی تھی اور ان کے دو چھوٹے بیٹے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گھر میں کوئی بڑا تنازع نہیں تھا، لیکن ویڈیو کال کے دوران ہونے والی معمولی تلخ کلامی نے اتنا سنگین رخ اختیار کر لیا۔
ساجد کے بڑے بھائی محمد خالد نے بتایا:
4 فروری کو اس نے خودکشی کی۔ وجہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے کیونکہ گھر میں کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ بیوی سے معمول کی بات ہو رہی تھی کہ اچانک اس کی موت کی خبر آئی۔ اہلیہ نے پہلے اپنے بھائی کو فون کیا، جس کے بعد ہمیں اطلاع ملی۔
میت سعودی عرب میں ہی دفنانے کا فیصلہ:
واقعے کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، لیکن تاحال ساجد کی میت ہندوستان نہیں لائی جا سکی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق وہاں کاغذی کاروائی اور قانونی عمل بہت طویل ہے جس کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔بدھ کے روز پوسٹ مارٹم مکمل ہوا ہے، لیکن لاش کو واپس بھیجنے کے عمل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
اہل خانہ کا موقف:
ساجد کے بھائی خالد کا کہنا ہے کہ لاش خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر اب وہ اسے سعودی عرب میں ہی سپردِ خاک کرنے کا سوچ رہے ہیں۔بھارتی سفارت خانے کو ای میل کے ذریعے مطلع کیا گیا ہے، لیکن کاروائی کی رفتار سست ہے۔ سعودی عرب میں ساجد کا ایک اور بھائی اور دیگر رشتہ دار بھی موجود ہیں جو حالات دیکھ رہے ہیں۔