Saturday, March 14, 2026 | 24 رمضان 1447
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • وادی کشمیرمیں جمعتہ الوداع کا عقیدت واحترام کے ساتھ انعقاد۔ یوم القدس پرنکالی گئیں ریلیاں

وادی کشمیرمیں جمعتہ الوداع کا عقیدت واحترام کے ساتھ انعقاد۔ یوم القدس پرنکالی گئیں ریلیاں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 13, 2026 IST

وادی کشمیرمیں جمعتہ الوداع کا عقیدت واحترام کے ساتھ انعقاد۔ یوم القدس پرنکالی گئیں ریلیاں
 وادیِ کشمیرمیں رمضان المبارک کا آخری جمعہ یعنی 'جمعتہ الوداع' روایتی مذہبی عقیدت واحترام اور جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر وادی کی تمام چھوٹی بڑی مساجد، خانقاہوں اور درگاہوں میں نمازِ جمعہ کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔ سب سے بڑا اجتماع تاریخی درگاہ حضرت بل میں ہوا، جہاں عقیدت مندوں کا جم غفیر امڈ آیا۔ نماز کے بعد بارگاہِ الٰہی میں جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ انتظامیہ کی جانب سے زائرین کی سہولت کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

بھدرواہ کی جامع مساجد  میں ہزاروں کا اجتماع

بھدرواہ کی جامع مساجد میں ہزاروں مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی۔نمازی بڑی تعداد میں مساجد میں جمع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور امن، بھائی چارے اور اپنی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔مرکزی جامع مسجد بھدرواہ میں زیادہ رش کے باعث مسجد کمیٹی نے اضافی انتظامات کیے ۔جبکہ انتظامیہ نے نماز کے دوران کچھ دیر کے لیے صدر بازار سے پسری بس اسٹینڈ تک ٹریفک بھی معطل رکھا۔اس موقع پر شہر بھر میں سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

ضلع اننت ناگ کے آثار شریف روحانی منظر 

 رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کے بابرکت موقع پر وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے آئے ہزاروں عقیدت مندوں نے نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی۔ضلع اننت ناگ کے آثار شریف کعبہ مرگ حضرت بل لاری پورہ میں تقریباً 50 ہزار سے زائد فرزندانِ توحید جمع ہوئے اور اجتماعی طور پر جمعہ نماز ادا کی۔ اس موقع پر پورا ماحول روحانیت اور عقیدت سے لبریز تھا جہاں لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی دعائیں مانگیں۔نماز جمعہ کے بعد سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے موئے مقدس کی زیارت بھی کرائی گئی۔ اس روح پرور لمحے میں ہزاروں عقیدت مندوں نے موئے مقدس کی زیارت کر کے اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھا اور برکتیں حاصل کیں۔اس موقع پر جموں و کشمیر میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔  

 کشتواڑمیں جمعتہ الوداع کا اہتمام 

 کشتواڑ  مرکزی جامع مسجد کے  امام و خطیب مولانا فاروق حسین کچلو نے جمعتہ  الوداع کے موقع عوام کو عیدالفطر  کی  مبارک باد پیش کی ہے ۔اپنے مبارکبادی پیغام میں امام جامع نے اُمید کااظہار کیا ہے کہ یہ عید ریاست میں امن ترقی اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گی۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ ماہ رمضان میں روزے رکھنے کے بعد عیدمنانے کااہم مقصد یہ ہے کہ ہم ایمانداری ،سچائی کو اپناشعار بنائیں ، اور صبر کا دامن تھام لیں ۔اُنہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،بھائی چارے اور آپسی میل جول کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

عیدگاہ پونچھ میں مرکزی تقریب 

 ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے جمعتہ الوداع کے موقعہ پر سب سے بڑی تقریب مرکزی عیدگاہ پونچھ میں منعقد ہوئی ۔جہاں فرزندان توحید نے نماز جمعہ ادا کی ۔اسکے علاوہ دیگر مساجدوں میں بھی جمعتہ الوداع کی نماز بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی جس میں کثیر تعداد نمازیوں نے شرکت کی اور اسکے علاوہ سیکیورٹی و دیگر انتظامیہ کی جانب سے بہترین بندوبست و انتظامات کئے گئے تھے۔‎

ادھم پور میں خصوصی  دعائیں کی گئیں 

ادھمپور کی عیدگاہ جامع مسجد آدرش کالونی میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور نماز جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر مسجد میں روحانی فضا دیکھنے کو ملی اور نمازیوں نے مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ عبادت میں حصہ لیا۔نماز کی ادائیگی کے بعد ملک اور ریاست میں امن، خوشحالی اور باہمی بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں۔ نمازیوں نے دعا کی کہ معاشرے میں محبت، رواداری اور اتحاد کا ماحول قائم رہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔

 بڈگام میں بڑی ریلی کا انعقاد 

جمعۃ الوداع کے موقع پر مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں ہزاروں عقیدت مندوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ نماز جمعہ کی امامت آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کی۔نماز جمعہ کے بعد جمعۃ الوداع کے موقع پر ایک بڑی ریلی بھی نکالی گئی جو مرکزی امام بارگاہ بڈگام سے شروع ہو کر بس اسٹینڈ تک پہنچی۔ اس ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ریلی کے دوران یوم القدس کے حق میں اور فلسطین کی حمایت میں نعرے لگائے گئے۔ شرکاء نے بیت المقدس کی آزادی کے حق میں آواز بلند کی۔واضح رہے کہ یوم القدس ہر سال ماہ رمضان کے آخری جمعہ، یعنی جمعۃ الوداع کے دن منایا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں اس سال بھی انجمنِ شرعی شیعیان جموں و کشمیر کی جانب سے بڈگام میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

 بڈگام میں یوم القدس کا اہتمام 

 یومِ قُدس کے حوالے سے بانڈی پورہ کے سمبل سوناواری علاقے میں نماز جمعہ کے بعد مختلف علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں ۔ریلیوں میں شامل افراد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ریلی میں شامل افراد نے فلسطین کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ۔یہ تمام ریلیاں پرامن طور پر اختتام پزیر ہوگئیں۔

 ڈودہ: ایران کی تائید کرنے حکومت سے مانگ 

 خالد نجیب سہروردی، امام جامعہ مسجد ڈوڈہ نے کہا کہ ایران ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہے اور اس نے مسلسل اپنی حمایت کی ہے، خاص طور پر پاکستان کے مقابلے میں۔ اب تک نہ تو وزیر اعظم نریندر مودی اور نہ ہی حکومت ہند نے عوامی طور پر ایران کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ اس لیے اگر آج پی ایم مودی نے ایران کی صورتحال کے حوالے سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے تو یہ واقعی ایک خوش آئند قدم ہے۔  

 فاروق عبداللہ نے حضرت بل درگاہ میں نماز جمعہ ادا کی 

 نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج آثار شریف درگاہ حضرت بل میں جمعۃ الوداع کی نماز ادا کی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ مشرق وسطی میں جاری جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ہونا چاہئے اور اسلام دشمن ممالک بھی ختم ہونے چاہیے۔ فاروق نے اُمتِ مسلمہ کے اتحاد پر خاص زور دیا ۔

 کشمیرمیں ہائی الرٹ 

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ردعمل میں جمعۃ الوداع کے موقع پر کشمیر بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور بڑی مساجد اور مزارات پر بڑے مذہبی اجتماعات کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، جمعہ الوداع کے لیے کشمیر میں حفاظتی انتظامات کو احتیاطی تدابیر کے طور پر تیز کر دیا گیا ہے۔
ہائی الرٹ مارچ 2026 کے اوائل میں سری نگر اور کشمیر کے دیگر حصوں میں بین الاقوامی پیش رفتوں پر ہونے والے حالیہ مظاہروں کے بعد کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے بھاری سیکورٹی تعیناتی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔

تاریخی جامع مسجد میں نماز کی اجازت نہیں 

جامع مسجد سری نگر کو چھوڑ کر، حکام نے کشمیر بھر کی تاریخی مساجد اور مزارات پر باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن سخت حفاظتی انتظامات اور سخت چوکسی کے ساتھ۔ جموں و کشمیر حکومت نے جمعۃ الوداع کو 13 مارچ کے لیے پیشگی قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تمام اسکول، کالج اور سرکاری ادارے بند ہیں۔

 امن برقرار رکھنے حکام کی اپیل 

ایک اعلیٰ پولیس اہلکار نے کہا، "ہم نے پہلے ہی تمام کمیونٹیز کے مذہبی سربراہان سے مشورہ کیا تھا، جن میں مزارات، مساجد اور امام بارگاہوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ امن برقرار رکھنے کے لیے ایک اجتماعی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ہم نے زمین پر اضافی اہلکار بھی تعینات کیے ہیں، خاص طور پر حساس مقامات پر، کیونکہ ملک دشمن عناصر ان اجتماعات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔"

ٹریفک ایڈوائزری 

سرینگر اور کشمیر کے دیگر پرہجوم علاقوں کے لیے بھی ایک مخصوص ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے تاکہ بڑی عبادت گاہوں اور مساجد میں عقیدت مندوں کی متوقع آمد کا انتظام کیا جا سکے۔ جمعۃ الوداع رمضان کے مہینے کا آخری جمعہ ہے اور اسے مقدس مہینے کے مقدس دنوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں مسلم کمیونٹیز میں بڑے پیمانے پر اجتماعات کے ذریعہ نشان زد ہے۔

سپریم لیڈر کی موت پرعوامی ناراضگی 

اس سال مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات جس میں ایران، اسرائیل اور امریکہ شامل ہیں، اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل نے پوری دنیا میں شیعہ برادریوں کو ناراض کر دیا ہے۔ کشمیر میں کئی بڑے ماتمی جلوس نکالے گئے اور بعض مقامات پر تشدد کی اطلاع ملی۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکام نے وادی میں امن کو یقینی بنانے کے لیے امام بارگاہوں، مزاروں اور مساجد پر آج سخت نگرانی رکھی ہے۔