عام آدمی پارٹی (AAP) نے دہلی حکومت کی جانب سے طالبات کے لیے سائیکلوں کی خریداری پر سوالات اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر قیمت اور معیار میں فرق کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھردواج نے ایک پریس کانفرنس میں دو سائیکلیں دکھاتے ہوئے حکومت سے خریداری کے عمل پر وضاحت طلب کی۔
سوربھ بھردواج نے دعویٰ کیا کہ AAP نے خوردہ بازار سے ایک سائیکل تقریباً 4,200 روپے میں خریدی، جبکہ دہلی حکومت نے طالبات میں تقسیم کرنے کے لیے تقریباً 1.30 لاکھ سائیکلیں فی سائیکل 6,957 روپے کی قیمت پر خریدیں۔ AAP رہنما نے سوال اٹھایا کہ جب بازار میں ایک سائیکل کم قیمت پر دستیاب تھی تو حکومت نے فی سائیکل تقریباً 6,957 روپے کیوں ادا کیے؟ ان کے مطابق، دونوں سائیکلوں کا موازنہ کرنے پر سرکاری خریداری کے تحت فراہم کی جانے والی سائیکلوں کے بعض پرزوں کے معیار پر بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
سائیکل کے معیار پر بھی سوال
بھردواج نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے خریدی گئی سائیکلوں میں استعمال ہونے والے ٹائر، بریک اور دیگر کئی پرزے مبینہ طور پر کم معیار کے ہیں، حالانکہ ان کی قیمت عام مارکیٹ میں دستیاب سائیکل سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ انہوں نے سائیکل کے ’Skyler‘ ماڈل کی برانڈنگ پر بھی سوال اٹھایا۔ AAP کے مطابق، ٹینڈر کی شرائط میں سائیکلوں کے لیے سات گیئرز، سسپنشن اور ڈسک بریک جیسی خصوصیات کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن پارٹی کا دعویٰ ہے کہ طالبات کو فراہم کی گئی سائیکلوں میں یہ تمام خصوصیات موجود نہیں ہیں۔
حکومت سے جواب طلب
AAP نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سائیکلوں کی خریداری کی قیمت، ٹینڈر کی شرائط اور فراہم کی گئی سائیکلوں کے اصل ماڈل کے بارے میں مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھے۔ پارٹی کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر 4,200 روپے میں بہتر خصوصیات والی سائیکل بازار سے خریدی جا سکتی ہے تو حکومت نے فی سائیکل 6,957 روپے کیوں ادا کیے؟
تاہم، ان الزامات کے حوالے سے دہلی حکومت کا موقف یا جواب فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں ہے۔ اسی طرح AAP کی جانب سے سائیکلوں کی قیمت اور معیار کے بارے میں کیے گئے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہوئی ہے۔ اب معاملہ حکومت کی وضاحت اور خریداری سے متعلق دستاویزات سامنے آنے کے بعد مزید واضح ہو سکتا ہے۔