چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے حیدرآباد کی نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ "NALSAR" یونیورسٹی کے 2026 کے فارغ التحصیل طلباء کے اندراج پر روک لگانے کے بار کونسل آف انڈیا کے ہدایت پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ طلباء کو قانونی طریقے سے اپنی آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے کا حق ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بی سی آئی نے اس معاملے میں مداخلت کیوں کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے اور طلباء کے درمیان ہے اور بی سی آئی کو اس حوالے سے غیر ضروری ہدایت جاری نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر طلباء قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کسی معاملے پر اپنی رائے یا احتجاج کا اظہار کر رہے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے بی سی آئی سے جواب طلب کرلیا
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بی سی آئی کے ہدایت کے خلاف دائر درخواست کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے بی سی آئی سے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ "NALSAR" کے طلباء اور اساتذہ کے خلاف کوئی تعزیری کاروائی نہیں کی جانی چاہیے۔ عدالت اس معاملے کی اگلی سماعت تقریباً دو ہفتے بعد کرے گی۔
بی سی آئی نے کیا ہدایت دیا تھا؟
13 اگست کو بی سی آئی نے ملک کی تمام ریاستی بار کونسلوں کو ہدایت دی تھی کہ "NALSAR" یونیورسٹی آف لا کے 2026 میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کا اندراج نہ کیا جائے۔ اس ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ ان طلباء کو وکالت شروع کرنے کے لیے ضروری قانونی اندراج سے فی الحال روکا جائے۔ہدایت جاری ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی بی سی آئی اسے واپس لے لیا گیا۔
بی سی آئی نے طلباء کے خلاف کاروائی کیوں واپس لی؟
بی سی آئی نے کہا کہ تازہ معلومات کے مطابق زیادہ تر طلباء بے قصور تھے اور وہ چیف جسٹس کی توہین یا بے ادبی کی کسی مہم میں شامل ہونے کے خواہش مند نہیں تھے۔ اسی بنیاد پر تمام 2026 گریجویٹس کو اپنی پسند کی ریاستی بار کونسل میں وکیل کے طور پر اندراج کرانے کی اجازت دے دی گئی۔
طلباء کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی ہدایت
سینئر وکیل کے. پرمیشور نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ بی سی آئی کو یونیورسٹی کے باہر طلباء کی سرگرمیوں میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ طلباء کی سرگرمیوں کی بنیاد پر ان کے پیشہ ورانہ اندراج کو روکنا مناسب نہیں ہے۔
بی سی آئی نے بعد میں وضاحت جاری کردی
بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا نے بعد میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "NALSAR "کے 2026 کے طلباء کے خلاف کسی کاروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ انہوں نے طلباء کو اپنے مستقبل کے لیے نیک خواہشات بھی دیں۔ مشرا نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی رائے آزادانہ طور پر ظاہر کریں، لیکن ایسا کرتے وقت احترام اور ادارہ جاتی اصولوں کا خیال رکھیں۔
معاملہ کیا ہے؟
تازہ رپورٹس کے مطابق "NALSAR" کے کچھ طلباء نے چیف جسٹس سوریہ کانت کو یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں مدعو کیے جانے کی مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد بی سی آئی نے پہلے پورے 2026 بیچ کے اندراج پر روک لگا دی تھی۔ یہ تنازع" NALSAR" کے طلباء کی سرگرمیوں اور ان کے احتجاج کے بعد سامنے آیا۔ بی سی آئی کے ابتدائی ہدایت کے باعث طلباء کے مستقبل اور وکالت میں ان کے اندراج پر سوال اٹھ گیا تھا۔ اب سپریم کورٹ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ طے کرے گی کہ بی سی آئی کو ایسے معاملات میں طلباء کے پیشہ ورانہ اندراج کے حوالے سے اس طرح کی ہدایات جاری کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔تازہ پیش رفت میں بار کونسل آف انڈیا نے "NALSAR" کے 2026 کے پورے بیچ کے خلاف کاروائی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے مطابق، کونسل نے غور کے بعد پایا کہ زیادہ تر طلباء اس معاملے میں شامل نہیں تھے۔ اس لیے تمام 2026 کے فارغ التحصیل طلباء کو اپنی پسند کی ریاستی بار کونسل میں وکیل کے طور پر اندراج کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔ بی سی آئی نے کہا کہ کسی طالب علم کو اس کی غلطی کے بغیر سزا نہیں ملنی چاہیے۔