Sunday, May 17, 2026 | 29 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • !اے آئی اور فیک نیوز کا بڑھتا خطرہ: جدید دور کا ایک سنگین چیلنج

!اے آئی اور فیک نیوز کا بڑھتا خطرہ: جدید دور کا ایک سنگین چیلنج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 16, 2026 IST

!اے آئی اور فیک نیوز کا بڑھتا خطرہ: جدید دور کا ایک سنگین چیلنج
فیک نیوز سے مراد ایسی جھوٹی یا گمراہ کن معلومات جو جان بوجھ کرعوام کو دھوکہ دینے بنائی جاتی ہے۔  جس کا مقصد نیک نیتی پرمبنی نہ ہو اور  نفرت پھیلانے یا کسی خاص مقصد کے حصول کے لیے اپنائی جاتی ہے۔  آج کل فیک زور کے رجحان کو سوشل میڈیا نے تیز اور آسان کر دیا ہے۔  جھوٹ ، فرضی، جعلی یا فیک  نیوز یا بات کو  بلا تحقیق شیئر کرنا دوسروں تک پہنچانا  غلط ہے۔ اللہ نے نبی ﷺ نے  بنا تحقیق کےسنی سنائی بات کو بیان کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تاکہ لوگ جھوٹ اورنقصان اور دھوکہ سے بچ جائیں۔
 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات (بغیر تصدیق کے) بیان کر دے۔"(صحیح مسلم، مقدمہ، حدیث: 5) یعنی جب تک ہم اپنے طور پر جانچ نہ لیں کہ یہ بات صحیح ہے۔ تب تک اسکو فاروڈ، شیئر نہ کریں۔ بیان نہ کریں اور آگے نہ بڑھائیں۔
 
قارئین آج کا دور ٹیکنالوجی اورڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے۔ جہاں معلومات چند سیکنڈ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔اے آئی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی جھوٹی خبروں کا سلسلہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ آج اے آئی کی مدد سے جھوٹی ویڈیو تصاویر اور آڈیو کلپ اس طرح سے تیار کی جاتی ہے کہ سچ اور جھوٹ کو سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔ کچھ مہینوں سے ہائی پروفائل  اے آئی ویڈیوز نے بڑی تعداد میں لوگوں کو بے خوف بنایا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ایسی فیک ویڈیوزکو کیسے پہچانیں۔
 
 اے آئی اور فیک نیوز سماج کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ: اے آئی کے ذریعے فیک نیوز پھیلانے کے لیے ایسی ویڈیوز تیار کی جاتی ہیں جیسے کسی مشہور شخصیت یا سیاستدان کوئی اہم بات کر رہا ہو یا اشتعال انگیز بیان دے رہا ہو، یا ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہے جو اس نے کبھی بولی ہی نہیں ہو۔2025 اور 2026 میں کئی ایسی ڈیپ فیک نیوز سامنے آئی ہے۔ جن میں انڈین لیڈرز کے فیک بیانات بتائے گئے۔ کچھ ڈیپ فیک نیوز انٹرٹینمنٹ کے لیے بھی وائرل ہوتی ہیں۔ اے آئی ٹول ایسی جالی تصویریں بنا سکتے ہیں جو حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔اور تو اور اے آئی چیٹ باکس اور اے آئی ٹیکسٹ جنریٹر ہزاروں فیک چیزیں چند منٹوں میں تیار کر سکتے ہیں جو ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو جاتی ہے۔اے آئی کے ذریعے غلط طریقے سے تیار کی جانے والی انفارمیشن سماجی، معاشرتی ہم آہنگی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ جس سے معاشرے  میں نفرت اور تقسیم بڑھ رہی ہے لوگوں کے رجحانات اور خیالات میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور تو اور اے آئی کے ذریعے جعلی ویب سائٹ ڈیٹا چوری اور آن لائن فراڈ کی خبریں بھی بڑھ رہی ہیں۔  
 
 فیک نیوز کے خطرات: 2024 کے عالمی رپورٹس کے مطابق تقریبا60 .7انٹرنیٹ صارفین کم از کم ایک بار فیک نیوز کا شکار ہو چکے ہیں. ماہرین کے مطابق اے آئی جنریٹڈ کنٹینٹ آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل میڈیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ ہر چھوٹی سے چھوٹی معلومات تک رسائی حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے۔ اے ائی فیک نیوز کے اثرات کی جب ہم بات کریں تو اس کے لیے ایک الگ بحث درکار ہے۔    
 
 فیک نیوز کے سماجی اثرات: فیک نیوز کے سماجی اثرات سب سے زیادہ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ معاشرے میں خوف نفرت اور بے اعتمادی، لوگ بنا تحقیق کے جھوٹی خبریں جو ان کے مزاج یا مقصد سے ملتی ہو لوگوں تک پہنچانے میں پہل کر رہے ہیں۔ جس سے آپ نے دیکھا لوگوں کے بیچ میں کچھ سالوں سے مختلف مذاہب قوموں اور برادریوں کے درمیان تنازعات جنم لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر واٹس ایپ پر ایک جھوٹی افواہ پھیل گئی اور ہجوم نے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا حتی کہ بعض افراد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خبر مکمل طور پر جھوٹی تھی۔   
 
سیاسی فائدہ اورعوامی نقصان: دیکھا جائے تو فیک اے ائی نیوز کا سب سے نقصان عام عوام کو ہوتا ہے۔لوگ جھوٹی ویڈیو ایڈٹ شدہ تصاویر اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے فیک نیوز بنا کر وائرل کرتے ہیں۔ بعض سیاست داں اس کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرتےہیں۔ معصوم لوگوں کو بھڑکا کر اس کا سیاسی  فائدہ اٹھایا جاتاہے۔ اور عوام میں نفرت اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرح سے اے آئی ٹیکنالوجی کی فیک نیوز کے ذریعے سیاستدان دنگے اور فساد پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔اور دنگے فساد اور نفرت پھیل جاتی ہے۔
 
معاشی اثرات: فیک نیوز نے کاروبار پر بھی اپنا اثر چھوڑا ہے۔ کسی کمپنی یا بینک کی جھوٹی خبر سے لوگوں میں خوف پیدا کیا جا سکتا ہے۔ جس سے سرمایہ کاری اور کاروبار کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔  اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی اس کے ہم نے کرونا وائرس کے دوران پر دیکھے۔ 
 
  حل اور احتیاطی تدابیر: ایک تحقیق کے مطابق جھوٹی خبریں سچائی بیس خبروں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ سے پھیلتی ہے۔  اگرچہ اے آئی خود انسان کی ایجاد ہے۔ آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹیکنالوجی جتنی طاقتور اور ضروری ہوتی ہے اس کے استعمال کے قوانین اخلاقیات سے اگاہی بھی ضروری ہوتی ہے۔ جیسا کہ ابتدائی سطور میں کہاگیا ہےکہ کسی بھی خبر یا بات یا پوسٹ کو پھیلانے سے پہلےاس کی خوب اچھی طرح سے تحقیق کرلیں۔  
 
 آج کے زمانے میں میڈیا لٹریسی بہت ضروری ہے یعنی لوگوں کو چاہیے کہ ہر خبر پر یقین نہ کرے اس کے سورسز (ذرائع ) کی تصدیق کرے،پھر اسے لوگوں تک پہنچائے۔اور جو معلومات شیئر کریں اپنی ذمہ داری پر کریں۔اس کے لیے فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔   
 
میں یہ کہنا چاہوں گی اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ کیا جائے تو یہ ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ وہیں اس کا غلط استعمال معاشرے میں بد اعتمادی انتشار اور افراتفری پیدا کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نیو ٹیکنالوجی کے فائدہ اخلاقیات کو سامنے رکھتے ہوئے ہوشیاری اور شعور کے ساتھ کریں۔
 
از قلم: عرفانہ فاظمہ