Saturday, January 17, 2026 | 28, 1447 رجب
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • مہاراشٹر لوکل باڈی الیکشن میں آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کا جلوہ

مہاراشٹر لوکل باڈی الیکشن میں آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کا جلوہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 16, 2026 IST

  مہاراشٹر لوکل باڈی الیکشن میں آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کا جلوہ
مہاراشٹر کے 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابی نتائج اسد الدین اویسی کی قیادت والی اے آئی ایم آئی ایم کے لیے بھی اچھی خبر لے کر آئے ہیں۔ رجحانات اور وارڈس کو ملاتے ہوئے اویسی کی پارٹی 94 تک پہنچ گئی ہے۔ اویسی کا سب سے بڑا فائدہ سمبھاجی نگر میونسپل کارپوریشن انتخابات میں نظر آرہا ہے، جہاں پارٹی 33 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ سنبھاجی نگر کو پہلے اورنگ آباد کے نام سے جانا جاتا تھا، جہاں پہلے اے آئی ایم آئی ایم ایم پی رہ چکے ہیں۔
 
اے آئی ایم آئی ایم نے ممبئی بی ایم سی انتخابات میں سات سیٹیں جیتی ہیں۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن انتخابات میں 20 سیٹوں کے ساتھ اے آئی ایم آئی ایم بھی اپنا میئر خود منتخب کرے گی۔
 
سنبھاجی نگر-33
​​مالیگاؤں-20
امراوتی-15
ناندیڑ-14
دھولے-10
جالنا-2
 
اے آئی ایم آئی ایم نے بی ایم سی میں دو سیٹیں جیتی ہیں۔ ناندیڑ میں پارٹی 14 سیٹوں پر آگے ہے۔ انتخابات میں سب سے حیران کن کارکردگی اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم کی رہی۔ پارٹی نے پہلی بار اہلیہ نگر اور چندر پور میونسپل کارپوریشنوں میں مضبوط موجودگی قائم کی۔ اہلیہ نگر میں اے آئی ایم آئی ایم نے تین سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ چندر پور میں پارٹی نے اپنا پہلا نمائندہ منتخب کرکے ریکارڈ توڑ جیت حاصل کی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ کامیابی اے آئی ایم آئی ایم کو مہاراشٹر کی شہری سیاست میں ایک نئی شناخت دے سکتی ہے۔
 
اویسی کی پارٹی کہاں آگے ہے؟
مالیگاؤں:  اویسی کی پارٹی 20 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ شیوسینا 18 اور سماج وادی پارٹی 6 سیٹوں پر آگے ہے۔
 
ممبئی بی ایم سی انتخابات میں کس کو کتنی سیٹیں ملی--- بی جے پی: 82 شیوسینا (ادھو ٹھاکرے): 63 شیوسینا (شندے دھڑے): 26 کانگریس: 22 اے آئی ایم آئی ایم: 8 سماج وادی پارٹی: 2 ایم این ایس: 7 این سی پی (اجیت پوار): 2 این سی پی (شرد پوار): 1۔
 
 
تقریباً نو سال کے بعد منعقد ہونے والے یہ انتخابات زیادہ شدید، کثیر الجہتی اور غیر متوقع تھے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق، 34.8 ملین ووٹروں نے ان انتخابات میں 15,931 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کیا، جس میں ممبئی، پونے، ناگپور، تھانے، نوی ممبئی، اور کولہاپور جیسے بڑے شہری مراکز شامل تھے۔ پولنگ کے بعد کے رجحانات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ ووٹرز نے مرکز میں شہری مسائل کے ساتھ اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا۔