آل انڈیا مسلم پرسشل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کے اس نوٹیفیکیشن پر سخت اعتراض کیا ہے۔ جس کے تحت مرکزی حکومت نے وندے ما ترم گیت کے تمام اشعار کا سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی گیت جن گن من سے پہلے پڑھایا جا نالازمی قرار دے دیا ہے۔ بورڈ نےاسے غیر آئینی اور مذہبی آزادی کے منافی قرار دیا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے ایک پریس بیان میں مرکزی حکومت کے فیصلہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ غیر دستوری ، مذہبی آزادی و سیکولر اقدار کے منافی ، عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف اورمسلمانوں کے عقیدے سے راست متصادم ہے اس لئے مسلمانوں کے لئے ہرگز بھی قابل قبول نہیں ہے۔
مولانا نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے اور کانسٹی ٹیوائیٹ امیلی کے مباحث کے بعد اس بات پر اتفاق ہو گیا تھا کہ اس کےصرف دو بند ہی پڑھے جائیں گے۔ ایک سیکولر حکومت کسی ایک مذہب کے عقائد و تعلیمات کو دوسرے مذہبی طبقات پر زبردستی مسلط نہیں کر سکتی۔ یہ گیت بنگال کے پس منظر میں لکھ گیا تھا اور اس میں درگا اور دیگر دیویوں اور دیوتاؤں کی پو جا اورو دند نا کی بات کہی گئی ہے۔
مغربی بنگال کے الیکشن سے پہلے اسے نافذ کئے جانے کے پیچھے بی جے پی سرکار کی جو بھی مصلحت ہو مسلمان اسے ہرگز بھی قبول نہیں کر سکتے اس لئے کہ یہ ان کے ایمان و عقیدے سے راست متصادم ہے۔ مسلمان صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی ہی عبادت کرتا ہے، اسلام خدا کی ذات میں ذرہ برابر بھی شرک کو برداشت نہیں کرتا۔
بورڈ کے جنرل سکریٹری نے آگےکہا کہ ملکی عدالتوں نے بھی اس کے دیگر اشعار کو سیکولر اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے پڑھے جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ لہذا امرکزی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ و ہ فوری طور پر اس نوٹیفیکیشن کو واپس لے بصورت دیگر بورڈ اسے عدالت میں چیلنج کرےگا۔