جموں کی ایک عدالت میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔ وکلا کےایک گروپ نے چار ملزمین کو مبینہ طورپر حملہ کر دیا ۔ بتایا جا رہا ہےکہ ہندو دیوی کالی سے منسوب مذہبی رسومات کا مذاق اڑانے کے الزام میں چار ملزمان اپنی عبوری ضمانت کو مستقل بنانے کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اسی دوران جموں میں ایک کمرہ عدالت کے اندر مبینہ طور پر حملہ کیا۔
کمرے عدالت میں افراتفری
ملزمین کو اس سے قبل حساس کیس میں عبوری ضمانت دی گئی تھی۔ وہ آج پہلے کی ہدایات کی تعمیل میں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ جج جیوتی بھگت کو اس بات پر غور کرنا تھا کہ آیا حملہ کے وقت ان کی عبوری ضمانت کو مطلق قرار دیا جائے۔عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق، وکلاء کے ایک گروپ نے کمرہ عدالت کے اندر ان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے اور کمرہ عدالت کے فرش پر دیکھا گیا ۔افراتفری کے درمیان پریذائیڈنگ جج فوری طور پر کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے اور زخمی ملزمین کو بعد ازاں جائے وقوعہ سے بچا لیا گیا۔بعد ازاں انہیں عدالت کے پولیس چوکی لے جایا گیا۔
قانون کے رکھوالے ہی عدالتی نظام کےخلاف
کمرہ عدالت کے اندر اس طرح کا حملہ انتہائی تشویشناک اور غیر منصفانہ ہے ۔ ایک وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ کے اندر اس طرح کے واقعات پیش آئیں گے تو عوامی سطح پر قانون کی حکمرانی پر سوالات اٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ المیہ یہ ہیں کہ واقعہ کے بعد مبینہ طور پر حملہ آور وکلا نے ملزمان کے خلاف ایک اور شکایت بھی درج کرائی جبکہ زخمی ملزمان کو پولیس کی مدد سے موقع سے نکال کر قریبی پولیس پوسٹ منتقل کیا گیا۔
عدالت میں ہی قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں
انہوں نے کہا کہ جب عدالت میں وکیلوں کے ہاتھوں ملزمین محفوظ نہیں۔ اور وکیل خود فیصلے کرنے اور سزا دینے لگیں تو، قانون، پولیس،عدالتیں کیوں ہیں۔ اور لوگ انصاف کےلئے کہاں جائیں۔ اب سوال یہ ہےکہ کیا وکلا کو عدالتوں پر اعتماد نہیں رہا۔ کیوں یہ وکلا غندہ گردی کرنے لگے۔
مذہبی رسومات کا مذاق اڑانے کا ہے معاملہ
یہ معاملہ ایک ویڈیو سے متعلق ہے جس میں مبینہ طور پر کچھ افراد کو دیوی کالی سے وابستہ مذہبی رسومات کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس ویڈیو کی وجہ سے راشٹریہ بجرنگ دل کے صدر راکیش بجرنگی نے شکایت درج کروائی کہ اس ویڈیو سے ہندو برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ بعد میں یووا راجپوت سبھا کے دلاور سنگھ کی طرف سے دوسری مجرمانہ شکایت درج کروائی گئی۔
عبوری ضمانت پر تھے ملزمین
اس مقدمے میں 5 سے 6 مارچ کے درمیان چار ملزمین محمد عارف، شاہد، یونس اور عمران کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 8 مارچ کو پانچویں ملزم آصف کو گرفتار کیا گیا تھا۔ آصف پر ویڈیو ریکارڈ کرنے کا الزام ہے۔ملزمین کے خلاف ستواری پولیس نے بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس)، 2023 کی دفعہ 299 (مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی حرکتیں) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔چار ملزمین عارف، شاہد، یونس اور عمران کو بعد ازاں 16 مارچ کو مختلف شرائط پر عبوری ضمانت دی گئی تھی۔